بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے ایام سے پہلے جانور کا مرجانا


سوال

قربانی کا جانور قربانی کے دن سے پہلے مر جائے تو اس کا  کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مالدار یعنی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدلیا اور وہ قربانی سے پہلے مرگیا یا ‏گم ہوگیا یا بیماری کی وجہ سے قربانی کے ایام سے پہلے ذبح کرلیا گیا تو اس پر دوسرے جانور کی قربانی ‏واجب ہوگی، لیکن اگر غریب (غیر صاحبِ نصاب شخص) نے قربانی کی نیت سے جانور خریدلیا تو اس ‏پر دوسرے جانور کی قربانی واجب نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی کا جانور قربانی کے دن سے پہلے مرجائے تو اگر وہ صاحب نصاب ہو تو قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدنا ہوگا اور اگر صاحب نصاب نہ ہو تو اس پر  قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدنا واجب نہیں۔

 

وعلى هذا يخرج ما إذا اشترى شاة للأضحية ‌وهو ‌موسر، ثم إنها ماتت أو سرقت أو ضلت في أيام النحر أنه يجب عليه أن يضحي بشاة أخرى؛ لأن الوجوب في جملة الوقت والمشترى لم يتعين للوجوب والوقت باق - وهو من أهل الوجوب – فيجب، وإن كان معسرا فاشترى شاة للأضحية فهلكت في أيام النحر أو ضاعت سقطت عنه وليس عليه شيء آخر لما ذكرنا أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلة النذر فإذا هلكت فقد هلك محل إقامة الواجب فيسقط عنه وليس عليه شيء آخر بإيجاب الشرع ابتداء لفقد شرط الوجوب وهو اليسار.(بدائع الصنائع،کتاب الأضحية،فصل في أنواع كيفية الوجوب،ج:5،ص:66)     


فتویٰ نمبر : 10566/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں