بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/10/2026 |
دارالافتاء
دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے انتظامیہ مزدلفہ سے نکالے تو وجوب دم
سوال
عرفات سے مزدلفہ آکر اگر انتظامیہ دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے منی کی طرف نکال دے تو اس کی بنا پر وقوف مزدلفہ کے رہ جانے سے دم واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وقوفِ مزدلفہ کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوعِ فجر (صبح صادق) سے طلوعِ آفتاب تک ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر عذر کے صبح صادق سے پہلے ہی منیٰ چلا گیا اور صبح صادق سے طلوعِ آفتاب کے درمیان وقوفِ مزدلفہ بالکل نہیں کیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو، جیسے کوئی مریض ہو یا ضعیف ہو، یا انتظامیہ نے زبردستی صبح صادق سے پہلے منیٰ کی طرف نکالا ہو، تو ان اعذار کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر انتظامیہ دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے منیٰ کی طرف اس طور پر زبردستی نکالے کی مزدلفہ میں رکنا مشکل ہو توچونکہ یہ عذر ہے، اس وجہ سے ایسی صورت میں وقوفِ مزدلفہ کے رہ جانے سے دم واجب نہیں ہوگالیکن اگر انتظامیہ صرف نکالنے کا کہے لیکن کوئی زبردستی نہ کرے بلکہ حاجیوں کے لئے مز دلفہ میں قیام کرنا بغیر کسی مشکل کے ممکن ہو تو ایسی صورت میں مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے قبل نکل جانے سے دم لازم ہوگا ۔
وإنما عرفنا الوجوب بقوله عليه الصلاة والسلام " من وقف معنا هذا الموقف وقد كان أفاض قبل ذلك من عرفات فقد تم حجه " علق به تمام الحج وهذا يصلح أمارة للوجوب غير أنه إذا تركه بعذر بأن يكون به ضعف أو علة أو كانت امرأة تخاف الزحام لا شيء عليه۔(الهداية،كتاب الحج،باب الإحرام،ج:1،ص:143)
وأما زمانه فما بين طلوع الفجر من يوم النحر، وطلوع الشمس فمن حصل بمزدلفة في هذا الوقت فقد أدرك الوقوف، سواء بات بها أو لا، ومن لم يحصل بها فيه فقد فاته الوقوف ، والسنة أن يبيت ليلة النحر بمزدلفة، والبيتوتة ليست بواجبة، إنما الواجب هو الوقوف۔(بدائع الصنائع،كتاب الحج ، فصل في رمي الجمار،ج:6،ص:136)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 324
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 240
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 879
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 450
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 572
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 488
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 471
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 101
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 76
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 174
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 405
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 150
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 319
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1189
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 383
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں