بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موسیقی والے ولیمے کے کھانے کا حکم


سوال

جس ولیمے میں گانے موسیقی وغیرہ ہوں تو اس سے کھانے پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ نیز ایسے ولیمے میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آلات لہو و موسیقی کا استعمال اور سننا سنانادونوں بالاجماع حرام ہیں. عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے طبل (ڈول)، کوبہ (ڈول کی ایک قسم )اور شراب و جوئے کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ گانا سننا دل میں نفاق جیسی مہلک بیماری پیداکرتا ہے ۔اس لئے مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ موسیقی کے محافل میں شرکت  کرے۔اگر کسی دعوت کے موقع پر موسیقی چل رہی ہو تو  موسیقی اور گانے بجانے کا اثر ولیمہ اور اس کی دعوت پر اس طرح نہیں پڑتا کہ اس کی وجہ سے ولیمے کے کھانے کو ناجائز یا حرام کہا جائے البتہ اگر پہلے سے معلوم ہو   تو  ا یسی محفل  میں شرکت کرنا ناجائز ہے تاہم اگر پہلے سے علم نہ ہو اور وہاں پر جانے کے بعد معلوم ہوجائے کہ دعوت اور ولیمہ میں موسیقی یا دیگر محرمات کا ارتکاب ہو رہا ہے   تو عام لوگوں کے لئے ٹھہر کر  کھانے کی گنجائش ہےجب کہ علما اور پیشوا لوگوں کے لیے ایسی  صورت میں اس مجلس سے  کھا ئے  بغیر چلے جانا چاہیے تاکہ لوگ اس کی ناراضگی سے عبرت حاصل کریں اور اہل دین کی بد نامی بھی نہ ہو ۔

 

وعن ابن عباس عن رسول الله ﷺ قال إن الله تعالى حرم الخمر والميسر والكوبةو قال: كل مسكر حرام  قيل :الكوبة الطبل۔(السنن الكبرى للبيهقي، باب ما جاء في ذم الملاهي ،ج:10،ص:221)

وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله ﷺ الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع يعني الغناء سبب النفاق ومؤد إليه ۔۔۔وقال النووي في الروضة غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الادب الفصل الثالث، ج:8،ص:557  )

من دعي إلى وليمة و ثمه لعبا أوغناء، قعد وأكل ۔۔۔إن لم يكن ممن يقتدى به ،فإن كان مقتدى به و لم يقدر على المنع خرج و لم يقعد لأن فيه شين الدين ۔۔۔وإن علم أولا باللعب لا يحضر أصلا ۔(الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة،ج:9،ص501،502)


فتویٰ نمبر : 6304/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں