بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مقروض پر قربانی کا حکم


سوال

مجھ پر 13 لاکھ روپے قرض ہے اور میری ایک ماہ کی تنخواہ 1 لاکھ 30 ہزار روپے ہے۔ اس کے علاوہ میری کوئی جائیداد وغیرہ نہیں ہے۔ تو کیا مجھ پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص پر قرض ہو، اور اس کے پاس کچھ مال بھی ہو، تو اگر یہ مال اتنا ہو کہ ایام عیدالاضحیٰ تک واجب الادا قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس  نصاب کے برابر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان بچا رہتا ہو، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی۔ لیکن اگر کوئی مال نہ ہو، یا  ہو لیکن قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچتا ہو، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے پاس ضرورت سے زائد اتنا مال ہو کہ اس میں سے قرض کی رقم منفی کرنے کے بعد باقی مال نصاب کو پہنچتا ہو، تو اس پر قربانی واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی مال نہ ہو، یا  ہو لیکن قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچتا ہو، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

 

ولوكان عليه دين بحيث لوصرف فيه نقص نصابه لا تجب۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب الأول،ج:5،ص:292)

(‌قوله ‌واليسار ‌إلخ) ‌بأن ‌ملك ‌مائتي ‌درهم ‌أو ‌عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا۔(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الأضحية،ج:6،ص:312)


فتویٰ نمبر : 3828/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں