بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
REITمیں سرمایہ کاری کا حکم
سوال
رئیل اسٹیٹ انوسمنٹ ٹرسٹ (Real Estate Investment Trust) تحت پاکستان سٹاک ایکسچینج کمیشن کے قوانین کے مطابق کوئی بھی پہلے سے موجود پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی (جس کے پاس زمین پہلے سے موجود ہو)REITمنیجمنٹ کمپنی بناتی ہے ۔پھر یہ کمپنی REITانوسٹمنٹ فنڈ قائم کرتی ہے اورکسی بروکر کے ذریعے صنعتی،تجارتی اور رہائشی منصوبوں کے سرمایہ کاری کے لیے پیش کرتی ہیں ۔
سرمایہ کاری فی مربعCovered area کے حساب سے کی جاتی ہے ،تین سال کے اندرا ندرREIT منیجمنٹ کمپنی،REITانوسٹمنٹ فنڈ اور پہلے سے موجود پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستان سٹاک ایکسچینج قوانین کے مطابق پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوجاتی ہےاور سرمایہ کاروں کو فی مربع فٹ Covered areaکے حساب سےماہانہ کرایہ مقرر کیا جاتا ہے جس میں سالانہ کے حساب سے بتدریج اضافہ ہوتا رہے گا اور سرمایہ کار اپنے حصص مارکیٹ نرخ کے مطابق فروخت بھی کرسکے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (REIT) ماڈل کے تحت سرمایہ کاری کرنا اور ماہانہ منافع کرایہ کی شکل میں وصول کرنا یا اپنے حصص کو مارکیٹ نرخ کے مطابق فروخت کرناشریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جائز ہےیا نہیں؟
جواب
کسی بھی کاروبار کی حلت و حرمت اس پر مبنی ہے کہ وہ شریعت کے اصول و ضوابط کے موافق ہے یا نہیں۔ REIT میں سرمایہ کاری کرنا مندرج ذیل شرائط پائے جانے کی صورت میں جائز ہے :
1۔ حقیقی ملکیت ہویعنی ہر سرمایہ کار کا پراپرٹی (زمین یا بلڈنگ) میں ایک متعین حصہ ہو۔کسی واقعی حصہ کے بغیر سرمایہ پر کرایہ کے نام سے منافع وصول کرنا جائز نہیں۔
2۔REIT میں سرمایہ کاری حقیقی جائیداد (زمین، عمارت وغیرہ) پر مبنی ہونا ضروری ہے، نہ کہ صرف کاغذی یا فرضی اثاثوں پر۔ اگر سرمایہ سےحقیقتًا پراپرٹی خریدی جا رہی ہو، اور پھر واقعتًا وہ اجارہ پر دے کراس سے کرایہ حاصل ہو رہا ہو، تو یہ شرکت واجارہ (leasing) کا درست معاہدہ ہو سکتا ہے۔
3۔ کرایہ(نفع) میں ضمانت (guaranteed return) نہ ہو بلکہ کرایہ حقیقتًا کرایہ داروں سے حاصل کیا گیا ہو۔
4۔REITغیر شرعی کاروبار (جیسے سودی بینک،بے حیائی کلب،جواخانے، قمار خانے وغیرہ) کو پراپرٹی کرایہ پر نہ دے؛ کیونکہ اس کی آمدنی حلال نہ ہوگی۔
5۔ معاہدہ شفاف ہو،یعنی سرمایہ کار کو معلوم ہو کہ وہ کس پراپرٹی میں کس تناسب سے شریک ہے۔دھوکہ، غرر، یا غیر یقینی صورت حال نہ ہو۔
6۔ چونکہ REITمیں سرمایہ کاری شرکت کی بنیاد پر ہوتی ہے اور منافع اجارہ کے طور پر ملتے ہیں اس لیے درج بالا شرائط کے علاوہ شرکت و اجارہ کی تمام ضروری شرائط کا موجود ہونا بھی ضروری ہوگا۔
7۔REIT کے اثاثے صرف نقد شکل میں نہ ہوں، بلکہ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہوں،تو نفع کے ساتھ ان کی خرید وفروخت جائز ہے۔
8۔ ایک وسیع کاروباری ماڈل ہونے کی بنا پر REITکو شروع سے مسلسل شریعت کے ماہر مفتیان کرام کی نگرانی میں چلانا بھی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ناجائز معاملات کی بروقت نشاندہی سے اس سے احتراز ممکن ہو۔
وأما كون الأجرة المسماة له فلأنها بدل منافع وهي حقه...ومنها الملك والولاية فلا تنفذ إجارة الفضولي لعدم الملك، والولاية لكنه ينعقد موقوفا على إجازة المالك...(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج٤،ص:١٧٦،١٧٧)
(والأجرة) في الإجارة (لا تستحق بالعقد) أي بنفس العقد فلا يجب تسليمها...وقال:(بل) تستحق (بالتعجيل) هو (أو بشرطه)...(أو باستيفاء المعقود عليه) لتحقق المساواة بينهما،إذ العقد عقد معاوضة (أو التمكن منه) أي من استيفاء النفع إقامة للتمكن من الشيء مقام ذلك الشيء هذا إذا كانت الإجارة صحيحة فأما إذا كانت فاسدة لا يجب شيء بمجرد التمكن من استيفاء المنفعة إلا بحقيقة الانتفاع، ثم فرع على هذا بقوله.(فتجب) الأجرة (لو قبض) المستأجر (الدار ولم يسكنها) أي الدار (حتى مضت المدة) ؛ لأن تسليم نفس المنفعة لما لم يكن أقيم تسليم محلها مقامها إذ التمكن من الانتفاع يثبت به.(مجمع الأنهر،كتاب الإجارة،ج:٢،ص:٣٧٠)
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان.(الفتاوی الهندية،کتاب البیوع،الباب الأول:في تعریف البیع ... ج3،ص6،5)
منها: أن يكون العقد صحيحا؛ لأن العقد الفاسد غير لازم بل هو مستحق النقض والفسخ رفعا للفساد حقا للشرع، فضلا عن الجواز.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج٤،ص:١٩٥)
الأمور بمقاصدها:یعني أن الحکم الذی یترتب علی أمر یکون علی ماهو المقصود من ذالک الأمر.(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المقالة الثانیة في بیان القواعد الفقہیة،المادۃ:2،ص17(
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں