بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض میں جماع کا حکم


سوال

اگر شوہرکسی اور شہر میں کام کرتا ہو اور دو ڈیڑھ ماہ بعد تین چار دن چھٹی پر  گھر آئے اوراسی دن عورت کو ماہواری ہو توایسی صورت میں ان کا ہمبستری کرنا کیسا ہےجبکہ شوہر نے ماہورای ختم ہونے سے پہلے واپس جانا ہے؟

جواب

حیض کی حالت میں جماع کی حرمت  قرآن مجید سے ثابت ہے اس لئے جان بوجھ کر حیض کے دوران جماع کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح دوران حیض عورت کے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے سے بلاحائل استمتاع ناجائز ہے البتہ حائل کی صورت میں ناف سے گھٹنے تک کے حصے سےاستمتاع کی گنجائش ہے اس حصے کے علاوہ عورت کے ساتھ بلاحائل  اختلاط اور بدن سے استمتاع جائز ہے۔

صورت مسؤ لہ میں بھی حالت حیض میں جماع حرام اور ناجا ئز ہوگااور اسکا مرتکب  گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا ،لہذا بہر صورت اس سے اجتناب ضروری ہے ۔اور اگر اس کا ارتکاب کر بیٹھے تو صدق دل سے اس پر توبہ کرے۔

 

 قال الله تبارك وتعالى: وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ (سورۃ البقرۃ : 222)

وقربان ماتحت الإزار أي ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها ۔۔۔وقد علم من عباراتهم أنه يجوز الاستمتاع بالسرةوما فوقها، وبالركبة وما تحتها (البحر الرائق كتاب الطهارة، باب الحيض ج:1، ص: 342،345)


فتویٰ نمبر : 10542/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں