بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا اپنی صاحب نصاب بیوی کی طرف سے قر بانی کرنا


سوال

اگر کوئی عورت صاحب نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم یا فوری ادائیگی کی استطاعت نہ ہو کہ وہ خود قربانی کر سکے، تو کیا شرعاً اس کے شوہر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس کی طرف سے قربانی کرے؟

جواب

اگر کوئی صاحب نصاب ہو، لیکن اس کی اجازت سے دوسرا شخص  اس کی طرف سے قر بانی کرے،تو شرعا یہ جائز ہے ۔

 لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق شوہر اگر بیوی کی اجازت سےاس کی طرف سے قربانی کرے تو یہ جائز ہےیہ قربانی بیوی کی طرف سے شمار ہوگی اوراس کا ذمہ فارغ متصور ہو گا ۔

 

‌ولو ‌ضحى ‌ببدنة ‌عن ‌نفسه ‌وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لا تجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب السابع في التضحية،ج:5،ص:302)


فتویٰ نمبر : 10538/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں