بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

حلق یا قصرکیے بغیرحدود حرم سے نکلنا


سوال

اگر کوئی شخص حلق یا قصر کیے بغیر حدود حرم سے نکل گیا ،توکیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ حج یا عمرہ کے تمام ارکان مکمل کرنے کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے حلق یا قصرکرنا واجب ہےاوراسی سے آدمی احرام کی حالت سے باہرآتا ہے اوراس پرعائد تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، حلق یا قصر حدود حرم کے اندرکرنا ضروری ہے، اس لیے اگر کسی نے حدود حرم سے باہرحلق یا قصرکیا، تو صحیح قول کے مطابق اس پردم لازم ہوگا، البتہ حالت احرام میں حدود حرم سے باہرجانا کوئی گناہ نہیں اورنہ ہی اس سے دم واجب ہوتا ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص بغیر حلق یا قصرکیے حرم سے باہر چلا جائے اور پھر واپس آ کر حدود حرم کے اندر حلق یا قصرکرلے، تو اس پرکوئی دم لازم نہیں ہوتا۔

 

فإن لم يقصر حتى رجع وقصر فلا شيء عليه في قولهم جميعا.معناه إذا خرج المعتمر ثمّ عاد؛لأنّه أتى به في مكانه فلا يلزمه ضمانه. (الهداية، كتاب الحج، باب الجنايات، ج:1، ص:270)

وتجب شاة بتأخيرالنّسك عن مكانه، كما إذاخرج من الحرم وحلق رأسه، سواء كان الحلق للحجّ أو للعمرة عند أبي حنيفة ومحمّد رحمهما الله. (الفتاوى الهندية،كتاب المناسك، الفصل الخامس، ج:1، ص:311)


فتویٰ نمبر : 10540/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں