بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شک کی وجہ سے حرمت مصاہرت


سوال

سائل کو مسئلہ مصاہرت سے متعلق وہم اور وسوسے لاحق ہیں، جن کی وجہ سے ہر محرم عورت سے مصافحہ کرتے وقت یہ خیال آتا ہے کہ کہیں حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوجائے، حالانکہ نہ کوئی شہوانی ارادہ ہوتا ہے، نہ میلان قلب، اور نہ ہی کوئی اختیارسے کی گئی شہوت انگیزحرکت، بعض اوقات محض وسوسوں کے دباؤ سے آلہ تناسل میں ہلکی سی غیرارادی حرکت ہو جاتی ہے، لیکن اس کا کوئی ارادی یا جنسی پہلو نہیں ہوتا،تو سوال یہ ہے کہ کیا اس سے حرمت مصاہرت آتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کے ذہن میں غیراختیاری طورپرجوخیالات اوروسوسے آتے ہیں ان پرکوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل نےجو کیفیات بیان کی ہیں یہ محض وہم اوروسوسہ ہے ،اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی­­­۔

 

عن ابی ھریرۃؓ قال: قال النبيﷺ: "إنّ اللہ تجاوز عن أمّتي ما وسوست بہ صدورھا مالم تعمل او تکلّم". (الصّحیح للبخاري، رقم الحدیث:2529، باب الخطاءوالنسیان في الطّلاق والعتاق ونحوہ، ج:1، ص:343) 

"وعلی التوجیه ما قاله صاحب الأزھار۔۔۔ فالصّواب ما قاله الطیبي من أنّ الوسوسة ضروریّة واختیاریّة، فالضروریّة: ما یجري في الصدور من الخواطرابتداءً ولا یقدرالإنسان علی دفعه فھو معفوّ عن جمیع الا۠مم، والاختیاریّة ‏: ھي الّتي تجري في القلب وتستمرّ وھو یقصد و یعمل به ویتلذّ ذ منه کما یجري في قلبه حبّ امرأۃ ویدوم علیه و یقصد الوصول إلیھا وماأشبه ذالک من المعاصي، فھذا النوع عفا اللہ عن ھذہ الأمّة خاصّة۔۔۔"(مرقاۃالمفاتیح، ملّاعلي قاري، کتاب الإیمان، باب في الوسوسة، الفصل الأوّل، ج:1، ص:228)

 وقال عامّة العلماء:الشّهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها. (فتاوی قاضي خان، کتاب النکاح، باب في بیان المحرّمات، ج:1، ص:317)


فتویٰ نمبر : 7189/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں