بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ویزہ حاصل کرنے کے لیے کسی سے اکاونٹ میں رقم رکھوا کر اس پر منا فع دینا


سوال

میں تعلیم کے لیے لندن جانا چاہتا ہوں۔ اُن کی پالیسی کے مطابق دو مہینے کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ میں ستر (70) لاکھ روپے رکھنا ضروری ہے، اور اس رقم کی بینک اسٹیٹمنٹ بطور ثبوت یونیورسٹی کو بھیجنی ہوتی ہے،میری مجبوری یہ ہے کہ میرے پاس مذکورہ رقم موجود نہیں ہے۔ بعض بینک والے یا انویسٹرز یہ رقم فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس شرط پر کہ وہ رقم میرے اکاؤنٹ میں رکھ دیں گے اور دو مہینے بعد واپس لینے کے ساتھ پانچ لاکھ روپے اضافی لیں گے، چونکہ یہ تو کھلا سود ہے اس وجہ سے میں اس کے لیے تیار نہیں ہو ں، البتہ کچھ احباب نے متبادل تجاویز پیش کئے ہیں ، جو یہ ہیں: 1۔کوئی فرد یا انویسٹر میرے بینک اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم رکھ دے،چونکہ مجھے صرف بینک اسٹیٹمنٹ کا ایک  صفحہ درکار ہے ، اس لیے  وہ مجھے 5 لاکھ روپے  پر  بینک اسٹیٹمنٹ والا صفحہ فروخت کرے۔ 2۔دو دوست ہیں جو گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتے ہیں۔  میں  ایک سے  75 لاکھ روپے قرض  پر ایک گاڑی خرید لوں، اور دوسرے کو وہ گاڑی 70 لاکھ روپے میں فروخت کر دوں۔ اس طرح مجھے بظاہر 5 لاکھ روپے اضافی دینے پڑیں گے اور میرا کام بھی ہو جائے گا۔ 3۔جو ایجنٹ میرا کام کر رہا ہے، اُس سے بات کر لی جائے کہ وہ بطور ایجنٹ مجھ سے 50 ہزار روپے فیس کے بجائے 6 لاکھ روپے لے لے، لیکن 70 لاکھ روپے کا بندوبست وہ خود کرے چاہے میرا بینک اکاؤنٹ چیک بک اور اے ٹی ایم کارڈ سب کچھ اس کے پاس ہو، مجھے صرف بینک اسٹیٹمنٹ کا صفحہ درکار ہے۔ ان تجاویز میں سے کوئی تجویز شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو از راہ کرم کوئی ایسی متبادل تجویز مرحمت فرمائیں جو سود سے پاک ہو اور میرا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔

جواب

واضح رہے کہ جو شخص کسی کو کچھ رقم قرض دے اور واپسی پر اس میں اضافے کا مطالبہ کرے، تو یہ "سود" کہلاتا ہے، جو کہ شریعت  میں ناجائز اور حرام ہے۔ سود کی نحوست اور لعنت سے بچنے کے لیے مختلف حیلے اختیار کیے جاتے  ہیں۔ ان میں سے کچھ حیلے ایسے ہوتے ہیں جن کی شریعت میں گنجائش موجود ہوتی ہے، اور وہ واقعی شرعی متبادل ہوتے ہیں، جبکہ بعض محض فریب اور دھوکہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف سود کو جائز ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ ایسے حیلوں کا  شرعاً کوئی جواز نہیں ہوتا۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ  حیلہ اگر سود کے لیے راہ ہموار کرنے کی نیت سے  ہو ، تو یہ ناجائز ہے اور اس کا حکم عین سود کا ہے، اور اگر حیلہ سود کی لعنت سے جان چھڑانے کے لیے  کیا جائے ، تو اس طرح حیلہ کرنا جائز ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر صرف اسٹیٹمنٹ دکھانے کے لیے عارضی طور پر  کسی دوسرے شخص سے بینک اکاؤنٹ میں رقم رکھوادی جائے اور  اکاؤنٹ ہولڈر کو تصرف کا اختیار نہ دیا  جائے تو ایسی صورت میں اکاؤنٹ ہولڈر اس رقم کا مالک نہیں بنتا بلکہ یہ رقم گویا اس کے پاس بطور  امانت ہوتی ہے لہذا یہ رقم بطور ملکیت دکھانا دھوکہ دہی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں اور اس دھوکہ دہی میں معاونت پر کوئی معاوضہ لینا بھی جائز نہیں، البتہ  اگر اس رقم میں تصرف کا اختیار دیا جائے تو پھر یہ قرض ہونے کی وجہ سے اکاؤنٹ ہولڈر کی ملکیت میں داخل ہوجائے گی چنانچہ  پھر اس کو بطور ملکیت دکھانا دھوکہ دہی نہ ہوگا ، تا ہم اس صورت میں بھی رقم رکھوانے والا اس پر اضافے کا مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ قرض پر اضافہ سود ہے  ۔

سوال میں ذکرشدہ تجاویز میں سے   پہلی تجویز  کہ:  کوئی سائل کے اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم رکھ دے اور پھر اسٹیٹمنٹ کا صفحہ اس پر پانچ لاکھ کا فروخت کرے  ،جائز نہیں کیونکہ  اس میں جوحیلہ کیا جاتا  ہے ، وہ  کوئی معقول حیلہ نہیں کیونکہ عموما کوئی بھی ایک صفحہ پانچ لاکھ روپے  کے عوض نہیں خریدتا  ،نیز اپنے اکاؤنٹ کا اسٹیٹمنٹ دوسرے شخص سے خریدنے کا بھی کوئی معنی نہیں ،  البتہ دوسری  تجویز   تورق  کی صورت  ہے ،جس میں ایک شخص کسی سے کوئی چیز ادھار (قسطوں) پر خرید لیتا ہے، پھروہ چیز  کسی دوسرے شخص  کے ہاتھ   نقد کم قیمت پر فروخت کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی ضرورت کے مطابق نقد  رقم حاصل کر لیتا ہے، اور سود کی لعنت سے بھی بچ جاتا ہے، اس صورت کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ  کہ اس چیز کو  واقعاً کسی  تیسرے شخص  کے ہاتھ فروخت کیا جائے  ایسا نہ ہو کہ وہ  تیسرا شخص اس پہلے بائع  کا وکیل یا شریک ہو۔ اور تیسری تجویز کہ: ایجنٹ یہ ساری کارروائی کرے اور اس کو زیادہ فیس دی جائے ،اس  میں بھی  چونکہ اکاؤنٹ ہولڈر کو  حقیقی طور پر  رقم میں تصرف کا مالک نہیں بنایا جاتا اس وجہ سے  اس میں بھی دھوکہ دہی  ہے لہذا  اس صورت  سے بھی احتراز کرنا چاہیے ۔

 

قال الخصاف في أول ‌كتاب ‌الحيل: لا بأس بالحيل فيما يحل ويجوز، وإنما الحيلة شيء يتخلص به الرجل من الحرام ويخرج به إلى الحلال فما كان من هذا ونحوه فلا بأس به، وإنما يكره من ذلك أن يحتال الرجل في حق لرجل حتى يبطله أو يحتال في باطل حتى يموهه أو يحتال في شيء حتى يدخل فيه شبهة. اهـ. أتقاني.) حاشية الشلبي على تبيين الحقائق ، كتاب الشفعة،باب ما تبطل به الشفعة،ج: 5، ص:261)

الفصل الأول: في بيان جواز الحيل وعدم جوازها فنقول: مذهب علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة، والأصل في جواز هذا النوع من الحيل قول الله تعالى ﴿وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث﴾ وهذا تعليم المخرج لأيوب النبي - عليه وعلى نبينا الصلاة والسلام - عن يمينه التي حلف ليضربن امرأته مائة عود وعامة المشايخ على أن حكمها ليس بمنسوخ وهو الصحيح من المذهب كذا في الذخيرة.( الفتاوى الهندية، كتاب الحيل،ج:6، ص: 390)

ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الكفالة، مطلب في بيع العينة،ج:5، ص:326)


فتویٰ نمبر : 3820/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں