بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قرض دینے والے پرقربانی


سوال

میں نے ایک دوست کو پیسے قرض دیے ہیں اوراب وہ کہہ رہا ہے کہ ابھی میرے پاس نہیں ہیں عید کے بعد دے دونگا  تو کیا مجھ پرقربانی واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص ایام النحر میں صاحب نصاب ہولیکن اس کے پیسےکسی دوسرے کے پاس بطور دین یا قرض ہو ں،اوروہ قرض یا دین ایسا ہو کہ ایام النحر میں مل سکے ، یا اسکے پاس کوئی دوسرامال ہو جس سے قربانی کرسکے یا ایسا سامان ہو جو ضرورت سے زائد ہواور اس کو بیچ کر قربانی کرسکے ، تواس پرقربانی واجب ہے۔اوراگر ایام النحرمیں قرض پیسے نہ مل سکیں اوراسکے پاس کوئی دوسرا مال بھی نہ ہو تو اس صورت میں قربانی واجب نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل کے پاس  كوئی دوسرا مال ہو یا ضرورت کے علاوہ کوئی ایسا سامان ہو جس کو بیچ کر قربانی کر سکے تواس پر قربانی لازم ہے اوراگراس کے ساتھ  قربانی کے لئے کوئی بندوبست نہ ہواور قرض پیسے بھی ایام قربانی میں نہ مل سکیں ، تواس پر قربانی لازم نہیں ۔
 

ولو كان عليه دين بحيث لو صرف إليه بعض نصابه لا ينقص نصابه لا تجب، وكذا ‌لو ‌كان ‌له ‌مال ‌غائب لا يصل إليه في أيام النحر لأنه فقير وقت غيبة المال حتى تحل له الصدقة بخلاف الزكاة فإنها تجب عليه؛ لأن جميع العمر وقت الزكاة وهذه قربة موقتة فيعتبر الغنى في وقتها ولا يشترط أن يكون غنيا في جميع الوقت۔(بدائع الصنائع،كتاب الأضحية،باب في وجوب شرائط الأضحية،ج:5،ص:64)

له ‌دين ‌حال أو مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه. له مال كثير غائب في يد شريكه أو مضاربه ومعه ما يشتري به الأضحية من الحجرين أو متاع البيت تلزمه الأضحية۔ (الفتاوی الهندية، كتاب الأضحية ، الباب التاسع في المتفرقات،ج:5، ص:307)


فتویٰ نمبر : 10551/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں