بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عید کی نمازکے بعد معانقہ کرنا


سوال

عیدکی نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے کر معانقہ کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اورمعانقہ کرنا نہ مسنون ہے اور نہ ممنوع ، اوراس دن کسی کو’’عید مبارک‘‘ کے الفاظ سے، برکت کی دعا دینے میں بھی حرج نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی جب عید  کے موقع پرایک دوسرے سے ملتے تو' تقبل اللہ منا ومنک' کے الفاظ کہتے تھے ، البتہ اس کو لازم سمجھنا درست نہیں ۔


عن راشد بن سعد، أن أبا أمامة الباهلي، وواثلة بن الأسقع، رضي الله عنهما لقياه في يوم عيد فقالا: «‌تقبل ‌الله ‌منا ومنك ۔(الطبراني،باب الدعاء في العيدين،ص:288)

وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية ‌عيد ‌مبارك عليك ونحوه۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة ،باب العيدين،ج:6،ص:290)


فتویٰ نمبر : 10543/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں