بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کا پانی گھروں میں استعمال کرنا


سوال

اگر مسجد کی انتظامیہ مسجد کا پانی  گھروں میں لے جانے پر پابندی لگادے ،اس کے باوجود اگر لوگ پانی مسجد سےگھر لے جاتے ہوں تو کیا ان کے لیے اس پانی کا استعمال جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد کے لیے وقف شدہ پانی صرف مسجد کی ضروریات تک محدود رہے گا اور مسجد سے گھروں میں لے جاکر ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ،البتہ اگر واقف نے پانی وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھرکوئی مضائقہ نہیں ،لیکن پھر بھی مسجد کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مسجد کی انتظامیہ کے منع کرنے کے باوجود مسجد کا پانی گھروں میں لےجاکرذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ۔

 

فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، ‌فله ‌أن ‌يجعل ‌ماله حيث شاء ما لم يكن معصية .( رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:343)

فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن... (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:539)

‌ويكره ‌رفع ‌الجرة من السقاية وحملها إلى منزله، لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلافلا.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:341)


فتویٰ نمبر : 6307/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں