بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کی نیت سے خریدنے کے بعد جانورمیں عیب پیداہونا


سوال

ایک شخص نے قربانی کے لیے گائے خریدی تواس وقت وہ گائے صحیح سالم تھی، لیکن جیسے گاڑی میں ڈالی توپاؤں پھسل کرگاڑی ہی میں گرکرایک پاؤں سے لنگڑی ہوگئی، کیا ایسی گائے پرقربانی جائزہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ قربانی کےلیے صحیح سالم جانورکوخریدنا چاہیے، پھراگراس جانورمیں کوئی عیب پیدا ہوجائے تواگرقربانی کرنے والا صاحب نصاب ہوتواس پردوسرا بغیرعیب والا جانورخریدنا لازم ہوگا، لیکن اگرقربانی کرنے والاغیرصاحب نصاب ہوتواس کے لیے اسی جانورکوقربانی میں ذبح کرنا جائزہے۔

صورت مسؤلہ میں اگرمذکورہ گائے سے قربانی کرنے والا صاحب نصاب ہوتواس کے لیے اسی گائے کوقربانی میں ذبح کرنا جائزنہیں، بلکہ دوسرا بغیرعیب والاجانورخرید کراس پرقربانی کرے، اوراگرقربانی کرنے والا شخص صاحب نصاب نہ ہوتواس کے لیے اسی گائے کو قربانی میں ذبح کرنا جائزہے۔

 

(ولو) (اشتراها سليمة ‌ثم ‌تعيبت ‌بعيب مانع) كما مر(فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك) وكذا لو كانت معيبة وقت الشراء لعدم وجوبها عليه بخلاف الغني۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:6، ص:635)

(وأما صفته) فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائعومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لايكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لاتجوزعلى كل حال، وفي حق المعسر تجوزعلى كل حال، كذا في المحيط۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297/299)


فتویٰ نمبر : 10549/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں