بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عوام کا مدرسہ کی اشیاء استعمال کرنا


سوال

محلے والے دکان داريا عوام الناس مدرسہ کے بیت الخلاء اورپانی استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف میں واقف کی شرائط کی رعایت ضروری ہے، واقف نے وقف کرتے وقت جوشرائط لگائی ہوں ان کے مطابق عمل کیا جائے گا، اوراگرواقف کی نیت معلوم نہ ہوتو پھراس صورت میں متولی اورمنتظم نے جوشرائط لگائی ہوں ان کا اعتبارہوگا۔

صورت مسؤلہ میں مدرسہ کی اشیاء طلبہ اوراساتذہ وغیرہ کے لیے وقف ہوتی ہیں، لہذا محلے کے لوگوں کے لیے مدرسہ کے بیت الخلاء اور پانی کا استعمال کرناصرف اس صورت میں درست ہوسکتا ہے جب واقف یا متولی اورمنتظم کی طرف سے اجازت ہو۔

 

وقد بينا أن القيم نائب عن الواقف بمنزلة الوكيل له في نصيبه ليعمل للموقوف عليهم باعتبارأنه جعل منفعتهم كمنفعته فاشتراط رأيه في نصب قيم آخر بعد موت الأول يحقق المقصود بالوقف، ولا يغيره قال(فإن مات بعده فأوصى إلى غيره فوصيه بمنزلته)؛ لأن الواقف نصبه ليكون ناظرا له محصلا لمقصوده۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:12، ص:44)

أنهم صرحوا بأن مراعاة ‌غرض ‌الواقفين واجبة۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر،ج:4، ص:445)

إن شرائط الواقف معتبرة إذا ‌لم ‌تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية۔۔۔أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:366)


فتویٰ نمبر : 6329/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں