بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

پاسپورٹ کرایہ پر لیکراس پر کوئی چیز خریدنا


سوال

حکومت کی جانب سے اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص  اس پاسپورٹ پر اس ملک سے جس میں یہ ہے کوئی چیز اپنے ملک لائےگا تو اس سے ٹیکس وغیرہ میں ڈسکاؤٹ کیاجائےگا ایسے پاسپورٹ کو کسی ایسے شخص کےلئےکرایایہ پرلیناجس کو وہ اپنے درآمدات برآمدت کے کاروبار کے لئے استعمال کرے مثلاً اس پر اکاؤٹ وغیرہ  کھولے،جس پر وہ گاڑی خریدکر اپنے ملک لائےاورڈسکاؤٹ حاصل کرے،تو اس طرح کا معاملہ کرنا از روشرع کیساہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  یا منافع  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ معقود علیہ مال متقوم ہو اور اس سے حاصل کی جانے والی منفعت منفعت مقصودہ ہو چونکہ حکومت کی جانب سے پاسپورٹ کا جاری ہونابین الاقوامی آمدورفت کے لئے ہوتا ہے اور اس کی خرید وفروخت  یا اجارہ پر دینےکی کوئی اجازت نہیں ہوتی اس لئے اسے کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی  کاپاسپورٹ کرایہ پر  اس لئے لینا کہ اس پرباہر سےکوئی چیزپاکستان لائی جائے،جائز نہیں ۔

 

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض.(بدائع الصنائع ، كتاب السير ، فصل فى بيان احكام البغاة ، ج7 ، ص140)

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال.(بدائع الصنائع ، فصل و اما الذي يرجع الى المعقود عليه ، ج5، ص549)


فتویٰ نمبر : 3819/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں