بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کاحکم


سوال

کسی آن لائن سٹورپرسرمایہ کارکافراہم کردہ لنک اپنےپلیٹ فارم سے شیئرکرنا جس پر کچھ کمیشن فیصدکے حساب سے مقرر کیا جاتاہے،جوکہ ہر پروڈک پر متعین ہوتا ہے،تو جب کوئی کسٹمراس پروڈک کو اس لنک پر جاکر خریدتاہے تو لنک شیئرکرنے والے کو مذکورہ کمیشن مل جاتا ہے، تو کیا اس طرح کا کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

سرمایہ کاروں کی طرف سےآن لائن سٹورپر فروختگی کے لیے فراہم کردہ اشیاء کے لنکس مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرکے ان اشیاء کی تشہیر کرنا،اور پھر اس لنک کے ذریعے جب وہ اشیاء فروخت ہوں، تواس کاکمیشن وصول کرنا،ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کہلاتاہے۔جس میں ایفیلئیٹ ممبر کی حیثیت دلال کی ہوتی ہے،اور دلال کو عمل کے بدلے جوکمیشن (اجرت ) ملتی ہے، وہ اس کے لیے لینا جائز ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ کمیشن پہلے سے طے ہو،  اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہواور جس چیز کا لنک شیئر کیاجائے اس کا استعمال شرعاً حلال ہو۔

 

مطلب في ‌أجرة ‌الدلال: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل... وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه. (رد المحتار على الدر المختار، ج:6، ص:63، دار الفكر، بيروت)

 

 


فتویٰ نمبر : 3814/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں