بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موبائل قسط وار خرید کر کم قیمت پر نقدبیچنا


سوال

اگر کوئی شخص قسطوں پر60ہزار والا موبائل 90ہزار پرخریدے،پھروہی موبائل  کو دوسرے دکاندارپر  کچھ نقصان کےساتھ فروخت کرے،اور اپنے لیےپیسے نقد کرائے،تو ایسا کرنا کیساہے؟

جواب

نقد رقم حاصل کرنےکےلئےکسی سےکوئی چیز ادھارخریدکر پھر اسے نقدکم قیمت پر کسی اور شخص کے ہاتھ فروخت کرناتورق کہلاتاہے۔تورق  سود سے بچنے کا  ایک حیلہ ہے جس کوضرورت کے وقت اختیارکرنے کی گنجائش ہے۔تاہم اس میں ضروری ہےکہ ادھار پر خریدی گئی چیز اسی فروخت کنندہ کو نقد پر واپس نہ بیچی جائے، بلکہ کسی تیسرے فریق کو بیچی جائے، اور یہ مبیع کسی شرط، مواطاۃ یا عرف کے تحت  بائع اول  کو واپس  نہ لوٹے نیز خرید و فروخت کے معاہدے اس طرح مربوط نہ ہوں جس سے خریدار کوحقیقی قبضہ اورتصرف کاحق ثابت نہ ہوجائے۔

      صورت مسؤلہ میں 60ہزار کا موبائل 90ہزار پرقسط وارخرید کرکسی دوسرےکو کچھ نقصان کے ساتھ نقدپربیچنا عقد تورق ہے جو کہ ضرورت کے وقت جائز ہے،البتہ اس طرح کے معاملات کوعادت بناناٹھیک نہیں کیونکہ اس سے آدمی کے دیوالیہ ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔

 

ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الكفالة،مطلب في بيع العينة،ج:7،ص:613)

(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:267)

وإلا ‌فلا ‌كراهة ‌إلا ‌خلاف ‌الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا. (فتح القدير شرح الهداية، كتاب الكفالة،ج:7، ص:213)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں