بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آن لائن پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کرنا


سوال

آن لائن پلیٹ فارم میں سے کس کس پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کرنا درست ہے؟

جواب

جدید دور میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے ذرائع میں تیزی سے تبدیلی آ گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی فراوانی اور عالمی منڈیوں تک رسائی نے "آن لائن کاروبار" کو فروغ دیا ہے، جس میں ایمازون، علی بابا، دراز وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز سرفہرست ہیں۔ان پلیٹ فارمز پرسرمایہ کاری  کے جواز کے لئے چند بنیادی اصول کا خیال رکھنا ضروری ہے جو درج ذیل ہیں :

  • فروخت کی جانےوالی چیز فروخت کنندہ کی ملکیت میں ہولہذامحض اشتہار یا تصویر دکھلاکر کوئی چیز فروخت کرکے بعد میں وہ چیز کسی  دکان، سٹور وغیرہ سے خرید کر مشتری (خریدار) کو بھیجناجائز نہ ہوگا۔
  • یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چیز فروخت کنندہ کےقبضہ میں بھی ہو۔
  •  اشیاءیا خدمات کا حقیقی وجود ہو  محض کسی فرضی چیز کی بنیاد پر سرمایہ کاری نہ کی جائے کیونکہ یہ قمار (سٹہ) کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ٹھہرتا ہے۔
  • فروخت ہونے والی چیز معلوم و متعین ہو۔کیونکہ مجہول اور غیر متعین چیز کی بیع جائز نہیں۔
  • شرعاًحرام اشیاء کی خرید وفروخت نہ ہو،کیونکہ حرام اشیاء کی  بیع جائز نہیں ۔
  • دھوکہ دہی اور غرر کا معاملہ نہ ہو:جیسےاصل پروڈکٹ کی بجائے کاپی فروخت کرنا  جبکہ گاہک اس کو اصل کے خیال  سے خریدتاہو۔
  • کرپٹو کرنسی  وغیرہ کے ذریعے لین دین نہ کیا جائے۔جس کو  قانوناً  کرنسی کی حیثیت حاصل نہیں۔کیونکہ کرپٹو کرنسی یا اس جیسی دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں، محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں،اورحکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے سرمایہ کے غبن  ہونے سے تحفظ  کی کوئی ضمانت نہ ہوگی۔
  • کرنسی کی آن لائن ٹریڈنگ میں بدلین (خریدی ہوئی کرنسی اور بیچی جانے والی کرنسی) پر کم از کم ایک جانب سےمجلس عقدمیں قبضہ ضروری ہے۔
  • اگرآن لائن معاملات میں کوئی کمیشن یا اجرت  وصول کرے تو ضروری ہے کہ وہ ایسا عمل ہو جس پر کمیشن یا اجرت لینا شرعاًجائز  ہو،لہذاکسی ممبر کی رجسٹریشن کی بنیاد پر جتنے آدمی بڑھتے جائیں گےتوان کےخریداری میں اس کو منافع اور کمیشن دینا یا بلواسطہ کمیشن کسی معقول عمل  کے بدلےنہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ۔
  •  ایک معاملہ دوسرےمعاملے کے ساتھ مشروط نہ ہو۔جیسےکسی کمپنی میں سرمایہ کاری کے لیے اوّلامخصوص رقم اداكركے اس كى مصنوعات ميں سے كوئى چيز خريدناضروری ہویا سرمایہ کاری  کی ممبر شپ کے باقی رہنے کےلیے ماہانہ خریداری کی شرط لگانا جائز نہیں ۔
  • نیز اگر کسی پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری کے لیے  حکومت کی اجازت ضروری ہو ،تو اس کے بغیر بھی سرمایہ کاری جائز نہ ہوگی۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني».(الصحيح لمسلم ، كتاب الإيمان ، باب قول النبي ﷺ من غش فليس منا ، ج: 1 ص: 70)

عن حكيم بن حزام، قال:قلت:يارسول الله، الرجل يطلب مني البيع وليس عندي أفأبيعه له؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لا تبع ما ليس عندك ".(السنن الكبرى للبيهقي، ج:5، ص:438، الرقم: 10422، دار الكتب العلمية، بيروت)

ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان.(الفتاوی الھندية،کتاب البیوع،الباب الأول:في تعریف البیع ... ج3،ص6،5)

"البيع نوعان باطل وفاسد فالباطل ما لم يكن محله مالا متقوما كما لو اشترى خمرا أو خنزيرا أو صيد الحرم أو الميتة أو دما مسفوحا فهو لا يفيد الملك وأما الفاسد وهو أن لا يكون بدلاه مالا كما لو اشترى بخمر أو خنزير أو صيد الحرم أو مدبرة أو مكاتب أو أم الولد أو أدخل فيه شرطا فاسدا أو نحوه فإنه ينعقد البيع بقيمة المبيع ويملك عند القبض".( الفتاوى الهندية،کتاب البيوع، الباب الحادي عشر في أحكام البيع الغير جائز، ج:3، ص:146، 147، ط:رشيدية)

فلو جوزناه لكان استحقاقا بغير عمل ولم يرد به الشرع.(الهدایة،کتاب المساقاۃ،ج:4،ص:430(

 (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل  القبض ؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - "نهى عن بيع ما لم يقبض".(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واماالذي يرجع الي المعقود عليه، ج:7ص:35)

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض.(بدائع الصنائع،كتاب السير،فصل فى بيان احكام البغاة،ج7،ص140)

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال.(بدائع الصنائع،فصل واماالذي يرجع الى المعقود عليه، ج5، ص549)

وحاصله أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة.قوله(بلا مانع) بأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره.(رد المحتار على الدرالمختار،مطلب فى شروط التخلية،ج4،ص562)

الأمور بمقاصدها:یعني أن الحکم الذی یترتب علی أمر یکون علی ماهو المقصود من ذالک الأمر.(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المقالة الثانیة فی بیان القواعد الفقہیة،المادۃ:2،ص17(


فتویٰ نمبر : 3817/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں