بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

دوسرے شخص کو فارمیسی چلانے کے لیے اپنا لائسنس دینا


سوال

میرے پاس میڈیکل لائسنس ہے جس پر  حکومت پاکستان کی طرف سے مجھے میڈیکل سٹور کھولنے کی اجازت ہے،تو کیا یہ لائسنس میں کسی کو میڈیکل سٹور کھولنے کے لئے دے سکتا ہوں جس پر وہ مجھےماہانہ  تنخوا ہ دے گا؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شعبے کا لائسنس یا ڈگری جو کسی شخص کو حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے وہ اس شخص کے لیے اس شعبے میں کام  کرنے کا اجازت نامہ ہوتا ہے،اس لیےکسی اورکے لیے اس لائسنس کو استعمال کرنے کی قانونا اجازت نہیں ہوتی  اور حکومت کی ایسی جائز پابندیاں  جو مفاد عامہ کےلیے وضع کی گی  ہوں ان کی پاسداری شرعا بھی لازم ہوتی ہے اور اس کی خلاف ورزی   جائز نہیں ہوتی ،میڈیکل سٹور چلانے کے لیے لائسنس کی شرط چونکہ عوامی مصلحت کی خاطر لگائی گئی ہے،تاکہ کوئی ایسا شخص میڈیکل سٹور نہ چلا ئےجو ادویات  کی پوری پہچان نہ رکھتا ہو، اس لیے میڈیکل سٹور چلانے  کے لیے لائسنس کا اہتمام ضروری ہے۔اور لائسنس کے حامل شخص کا محض لائسنس  دینے پر تنخواہ لیناجائز نہیں جب تک وہ عملاًکام نہ کرے،کیونکہ لائسنس  حکومت کی طرف سے ایک اجازت نامہ ہے کوئی مال نہیں جس کو اجارہ پر دیا جاسکے۔

 

تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة.(الأشباه والنظائر لابن نجيم،القاعدة الخامسة،ص62)

والأجرة انما تكون في مقابلة العمل.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،مطلب:أنفق على معتدةالغير،ج4،ص305)

وبهذا علم أن أمر القاضي لا ينفذ إلا إذاوافق الشرع.(شرح الأشباه والنظائر،القاعدة الخامسة،ص333،مكتبة اسلامية)


فتویٰ نمبر : 6300/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں