بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

اپنی بیوی یا مرحوم والدین کی طرف سے نفلی قر بانی کر نا


سوال

نفلی قربانی میں اولیٰ اور افضل کیا ہےاپنے مرحوم والدین کی طرف سے قربانی کرنا یا اپنی زندہ بیوی کو قربانی کا مالک بنا دینا؟

جواب

بیوی اگر صاحبِ نصاب ہے تو اس پر اپنے مال سے قربانی کرنا واجب ہے، البتہ اگرشوہر اس کی اجازت سے اس کی طرف سے قربانی کرے ،تو جائز ہےاور اگر بیوی صاحبِ  نصاب نہیں تو اس پر  قربانی  واجب نہیں۔ اور اس صورت میں شوہرکا اس کی طرف سے قربانی کرنا نفل کے طور پر ہوگا جب کہ  مرحوم والدین کی طرف سے قربانی بھی نفل ہوتی ہے۔

 لہذا صورت مسؤلہ میں اگر بیوی پر قربانی واجب ہو،تو اس کو قر بانی کا مالک بنانا بہتر ہے تاکہ اس کا ذمہ فارغ ہو جائے اور اگر وہ صاحب نصاب نہ ہو،تو پھراختیار ہے کہ دونوں میں سے جس  کے لیے قربانی کرے،البتہ مرحوم والدین کی طرف سے نفلی قربانی کرنا اس لحاظ سے زیادہ افضل اور باعث ثواب ہےکہ میت ایصال ثواب کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔

 

‌فإن ‌من ‌صام ‌أو ‌صلى ‌أو ‌تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الحج ،باب الحج عن الغير،ج:3،ص،63)


فتویٰ نمبر : 10532/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں