بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسجد اورمدرسہ کےلیے زمین وقف کرنا
سوال
ایک آدمی نے 10مرلہ کی زمین مسجد اوربنات کےمدرسہ کےلیے اس طورپر وقف کیاہےکہ اس زمین میں سے کچھ حصہ ،مثلا تین صف کا حصہ مسجد کےلیےاور باقی بنات کے مدرسہ کےلیے وقف ہو،اور تعمیر نیچےبیسمنٹ سے لےکر چارمنزل تک ایک جیسی ہوگی ، بایں طورپر کہ نیچے بیسمنٹ سے لے کر تیسرے منزل تک تین صفوں کا حصہ مسجد کےلیے ہوگا،اورباقی زمین کا حصہ بنات کے مدرسہ کےلیے ہوگا۔اب سوالات یہ ہیں کہ: 1۔ کیاشریعت کے مطابق یہ وقف جائز ہے یا نہیں ؟2۔ اگربعض اوقات گراونڈ فلور میں نمازی مسجد کی حدود سے تجاوز کرکے مدرسہ کے حصہ میں کھڑے ہوجائیں، توکیا شرعاً وہ مسجد میں کھڑے شمار ہوں گے یانہیں،ان کی نماز ٹھیک ہوگی یانہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ کسی زمین کے مسجد شرعی ہوجانے کےلیے تین شرائط کاپایاجاناضروری ہے :1۔ زمین ہمیشہ کےلیےمالک کی طرف سے وقف کی گئی ہو،2۔موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک یا دوسرے کی ملک سے اسی طرح علیحدہ کردیاہوکہ اس کایا کسی اورکاحق اس سے متعلق نہ رہے 3۔ متولی کی اجازت سے اس میں ایک مرتبہ جماعت کی نمازپڑھی جاچکی ہو۔ان تینوں شرائط کے پائے جانے کی صورت میں یہ جگہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی اور اس پر مسجد کے احکام مرتب ہوں گے۔
نیز یہ بھی واضح رہےکہ مساجدشعائر اللہ میں سے ہیں،جس کی دلی تعظیم اورآداب کی رعایت تمام مسلمانوں پر واجب ہے ،اس لیے اگر کوئی زمین مشترکہ طور پر مسجد اورمدرسہ کےلیے وقف کی جائے تو ان دونوں کی حدود کی واضح تعیین ضروری ہےاور دونوں کی مخلوط اوربلاامتیاز تعمیرسے بچنے کے لیے دونوں کی تعمیر میں نمایاں علامات کاہوناضروری ہے ،جس سے واضح طورپر مسجد اورمدرسہ کی حدودمتعین کی ہوں ، تاکہ تعظیم ِ مسجد کے پیش نظر اس کے آداب کی پامالی کا اندیشہ نہ رہے،اورتعلیمی ضرورت کی بناپراگر فارغ اوقات میں مسجد کو مدرسہ کےطورپر استعمال کیا جائے ،تو آدابِ مسجد کا پورا پوراخیال رکھاجائے۔نیزیہ بھی یادرہےکہ صحتِ جماعت کی شرائط میں سے یہ بھی ہےکہ امام اورمقتدی کےکھڑےہونے کی جگہ ایک ہو، یا اگر جگہ ایک نہ ہوتوصفوں میں اتصال ہو۔
مسئولہ صورتوں کے جوابات یہ ہیں کہ:1۔ مسجد اورمدرسہ کےلیے ایک قطعہ زمین وقف کرناجائز ہے،لیکن یہ ضروری ہےکہ دونوں کی تعمیر ایک دوسرے سے مخلوط نہ ہوبلکہ دونوں کی تعمیرمیں واضح فرق ہو، تاکہ مسجداورمدرسہ کی حدود واضح طورپرمعلوم ہوں،اورآداب مسجد کی پامالی کا اندیشہ نہ رہے۔
2۔مدرسہ کی زمین اگرمسجد کےساتھ بالکل متصل ہوتوبوقت ضرورت وہاں صفیں کھڑی کرنا جائزہےاورنماز باجماعت کا ثواب بھی ملےگا، لیکن وہ صفیں مسجد میں شمارنہ ہوں گی۔
واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم، ومجانينكم، وشراءكم، وبيعكم، وخصوماتكم، ورفع أصواتكم، وإقامة حدودكم، وسل سيوفكم، واتخذوا على أبوابها المطاهر، وجمروها في الجمع».(سنن ابن ماجه، کتاب المساجد والجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد، رقم الحدیث:750، ج:1، ص:247)
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه) بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية.وقال الشامي تحته:(قوله: وجعله في الخانية ظاهر الرواية) وعليه المتون كالكنز والملتقى وغيرهما وقد علمت تصحيح الأول وصححه في الخانية أيضا، وعليه اقتصر في كافي الحاكم فهو ظاهر الرواية أيضا.(رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الوقف ،فرع أراد أهل المحلة نقض المسجد وبناءہ أحکم من الأول،ج:4،ص:357)
وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يزول ملكه بالقول وأصله وعند أبي محمد - رحمه الله تعالى - إذا استقى الناس من السقاية وسكنوا الخان والرباط ودفنوا في المقبرة زال الملك ويكتفى بالواحد لتعذر فعل الجنس كله، وعلى هذا البئر والحوض، ولو سلم إلى المتولي صح التسليم في هذه الوجوه، كذا في الهداية ذكر في المبسوط أن الفتوى على قولهما في هذه المسائل وعلى إجماع الأمة.( الفتاوى الهندية، کتاب الوقف، الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر والخانات والحیاض، ج:2، ص:465)
يجوز الدرس في المسجد، وإن كان فيه استعمال اللبود والبواري المسبلة لأجل المسجد، كذا في القنية. (الفتاوى الهندية، کتاب الکراہية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة، ج:5، ص:320)
(والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية، ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الاصح (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد وبيت في الاصح، قنية.ولا حكما عند اتصال الصفوف، ولو اقتدى من سطح داره المتصلة بالمسجد لم يجز لاختلاف المكان، درر وبحر وغيرهما، وأقره المصنف لكن تعقبه في الشرنبلالية، ونقل عن البرهان وغيره أن الصحيح اعتبار الاشتباه فقط.قلت: وفي الاشباه وزواهر الجواهر ومفتاح السعادة أنه الاصح.وفي النهر عن الزاد أنه اختيار جماعة من المتأخرين.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، کتاب الصّلاۃ، باب الإمامة، ص:80)
وذكر في البحر عن المجتبى أن فناء المسجد له حكم المسجد، ثم قال: وبه علم أن الاقتداء من صحن الخانقاه الشيخونية بالإمام في المحراب صحيح وإن لم تتصل الصفوف لأن الصحن فناء المسجد، وكذا اقتداء من بالخلاوي السفلية صحيح لأن أبوابها في فناء المسجد إلخ، ويأتي تمام عبارته. وفي الخزائن: فناء المسجد هو ما اتصل به وليس بينه وبينه طريق. اهـ. قلت: يظهر من هذا أن مدرسة الكلاسة والكاملية من فناء المسجد الأموي في دمشق لأن بابهما في حائطه وكذا المشاهد الثلاثة التي فيه بالأولى، وكذا ساحة باب البريد والحوانيت التي فيه.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:585)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں