بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

اقالہ کی بجائے نئی بیع کرنا


سوال

ایک شخص نے گاڑی خریدی، اور اس کو استعمال کرنے لگا، دو تین ماہ استعمال کرنے کے بعد   بائع سے آکر کہنے لگاکہ اقالہ کرو، اب اگر بائع اصل قیمت پر اقالہ کرتا ہے تو گاڑی کی قیمت گر چکی ہے، اس کو کہیں سے یہ قیمت نہیں ملے گی، تو کیا بائع کے لئے جائز ہے کہ اقالہ کی بجائے عقد جدید کرلے؟

جواب

 واضح رہے کہ جب بیع مکمل ہو جائے تومبیع مشتری کی ملکیت بن جاتی ہے اس کے بعد اگردونوں فریق رضامندی سے معاملہ فسخ کرنا چاہیں ،تو باہمی رضامندی سے بیع کو ختم کرسکتے ہیں جسے "اقالہ" کہاجاتاہے، البتہ اگر  اقالہ کی  بجائے  بائع اپنی  بیچی ہوئی چیز مشتری سے دوبارہ  بیع جدید کے ساتھ خریدنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے ۔

لہذا صورت  مسؤلہ میں عاقدین اگرباہم رضامندی سے اقالہ کی بجائے نئی قیمت سےجدید بیع کریں تویہ جائز ہے۔

 

الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما "فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول".(الهداية، کتاب البیوع، باب الإقالة، ج:3 ، ص:55)

إلا أن يحدث في المبيع عيب فحينئذ جازت الإقالة بالأقل؛ لأن الحط يجعل بإزاء ما فات بالعيب.

(الهداية، کتاب البیوع، باب الإقالة، ج:3 ، ص:55)

قال: "وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب"؛ لأن التضرر بنقصان المالية، ‌وذلك ‌بانتقاص ‌القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله.(الهداية، کتاب البیوع، باب خیار العیب، ج:3، ص:37)


فتویٰ نمبر : 3813/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں