بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

مدرس کا اپنی جگہ کسی اور کو کم معاوضے پر تدریس حوالہ کرنا اور بقیہ تنخواہ خود لینا


سوال

اگر کوئی مدرس کسی ادارے  کی طرف سے مخصوص معاوضے پر تدریسی خدمات کے لیے مقرر ہو، لیکن وہ اپنی جگہ کسی اور شخص کو کم اجرت پر وہی تدریسی ذمہ داریاں سونپ دے اور باقی معاوضہ خود رکھے، تو شریعت کی روشنی میں اس کا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مدرس کی حیثت شرعی طورپر اجیر خاص کی ہوتی ہے اوراجیر خاص کی قانونی اور شرعی ذمہ داری ہےکہ وہ مقررہ مدت میں اپنے آپ کو کام کر نے کے لیے حاضررکھے ۔

  لہذا صورت ِمسئولہ میں مدرس مقررہ اوقات میں فرائض منصبی خود سرانجام دے گاکسی دوسرے کورکھنا درست نہیں؛اس لیے  مدرس کا اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو پڑھانے کے لیے بٹھانا اور تنخواہ خود وصول کرنا شرعاً  جائز نہیں ۔

 

(الخاص)…(وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص،ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدة.( الدر المختار علی صدر رد المحتار،کتاب الإجارة،باب ضمان الأجیر،ج:9،ص:95)


فتویٰ نمبر : 3809/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں