بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک رکعت پانے کے بعد تین رکعتوں کی قضا کا طریقہ


سوال

اگر کسی کی تین رکعتیں چھوٹ گئی ہوں اور وہ امام کے ساتھ صرف آخری رکعت میں شامل ہوا ہو، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اپنی باقی رکعتیں کس ترتیب سے ادا کرے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر چار رکعات والی فرض نماز میں امام کے ساتھ تیسری رکعت کے رکوع کے بعد شامل ہوا تو یہ رکعت اس کی چھوٹ گئی، اب امام کے ساتھ اس کی صرف ایک ہی رکعت ہوئی، چنانچہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ تین رکعات ادا کرے گا، اور اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر پہلے ثناء پڑھے، پھر تعوذ و تسمیہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور سورت پڑھے، اور رکوع وسجود کے بعد قعدہ میں بیٹھ کر صرف تشہد پڑھے، پھر دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورت پڑھ کر رکوع و سجود کے بعد سیدھا کھڑا ہوجائے اور  تیسری  (مجموعی طور پر آخری رکعت)  میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھے، اور آخر میں قعدہ کرکے سلام پھیرلے۔

 

و لو أدرك ركعةً من الرباعية فعليه أن يقضي ركعةً و يقرأ فيها الفاتحة و السورة ويتشهد؛ لأنه يقضي الآخر في حق التشهد ويقضي ركعةً يقرأ فيها كذلك و لايتشهد، وفي الثالثة يتخير و القراءة أفضل.(البحرالرائق شرح كنزالدقائق،باب استخلاف المسبوق فى الصلاة،ج1ص،400)


فتویٰ نمبر : 10526/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں