بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے لئے گابھن جانور خرید کر بیچنا


سوال

میں نے ایک جانور قربانی کی نیت سے خریدا، مگر کسی نے بتایا کہ یہ گابھن ہے،میں نے اس کو بیچ دیا۔ اب بعد میں معلوم ہوا کہ وہ  جانور گابھن نہیں تھا۔ تواب ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرصاحبِ نصاب شخص قربانی کے لئے خریدا گیا جانورتبدیل کرکے دوسرا جانور قربانی کے لیے خریدے، تو اس سے بھی قربانی  شرعاً ادا ہو جائے گی۔ لیکن اگرکوئی شخص صاحبِ نصاب نہ ہو تو قربانی کی نیت سے خریدے گئے جانورکی قربانی اس پرلازم ہے اس لئے وہ جانور تبدیل نہیں کرسکتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ،اگرسائل صاحبِ نصاب ہوتواس کے لیے گابھن جانورکو بیچنا جائز تھا اوراب دوسرا جانورخرید سکتا ہے۔ البتہ دوسرا جانورخریدتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی قیمت پہلے جانور کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، ورنہ اضافی رقم صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔اور اگر سائل صاحبِ نصاب نہ ہو تو اس کے لیے اس جانور کو بیچنا جائز نہیں تھا، لہٰذا ایسی صورت میں پوری قیمت صدقہ کرنا واجب ہوگا۔

 

أن الشراء للأضحية ممن لا أضحية عليه ‌يجري ‌مجرى ‌الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفا؛ لأنه إذا اشترى للأضحية مع فقره فالظاهر أنه يضحي فيصير كأنه قال: جعلت هذه الشاة أضحية، بخلاف الغني؛ لأن الأضحية واجبة عليه بإيجاب الشرع ابتداء فلا يكون شراؤه للأضحية إيجابا بل يكون قصدا إلى تفريغ ما في ذمته ولو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر۔( بدائع الصنائع،کتاب الأضحية،صفة التضحية،ج:5،ص:62)

(وفقير) عطف عليه (شراها لها) ‌لوجوبها ‌عليه ‌بذلك ‌حتى ‌يمتنع ‌عليه ‌بيعها (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها.(الدر المختار ،کتاب الأ ضحية،ج:6،ص:321) 

( قوله ومضت أيامها إلخ ) قيد به لما في النهاية : إذا وجبت بإيجابه صريحا أو بالشراء لها ، فإن تصدق بعينها في أيامها فعليه مثلها مكانها ،  لأن الواجب عليه الإراقة  وإنما ينتقل إلى  الصدقة إذا   وقع اليأس عن التضحية۔( رد المحتار على الدر المختار،كتاب الأضحية،ج:6،ص:321)


فتویٰ نمبر : 10553/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں