بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/10/2026

دارالافتاء

 

طواف وسعی سے قبل عورت کا بال کاٹنا


سوال

اگر کوئی عورت عمرہ  کا احرام باندھنے کے بعد طواف اورسعی مکمل کیے بغیر اپنے سرکے بالوں میں سے کچھ  بال  کاٹ دے،تو کیا اس پر دم واجب ہو گا؟ اگرہاں، تواس کی مقداراورنوعیت کیا ہو گی؟

جواب

حالتِ احرام میں مرد وعورت دونوں کے لیے بال کاٹنا ممنوع ہے اگر کسی نے احرام کی حالت میں سرکے چوتھائی حصے کے بقدربال کاٹے،تو اس پر دم واجب ہو تا ہے ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر عورت نے احرام باندھنے کے بعد طواف وسعی مکمل کیے بغیر اپنے سرکے چوتھائی حصے کے بقدربال کاٹے ہو ں، تواس پردم واجب ہوگا، جو کہ ایک بکری ذبح کرنا ہے،البتہ اگر بال چوتھائی حصےسے کم مقدار میں کاٹے ہوں،تواس پرصدقہ واجب ہوگا، جو نصف صاع یعنی پونےدوکلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہے ۔

‌

وإذا ‌حلق ‌ربع ‌رأسه أو ربع لحيته فصاعدا فعليه دم فإن كان أقل من الربع فعليه صدقة. (الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1ص:436)

ثم ‌واجب ‌الدم ‌يتأدى بالشاة في جميع المواضع إلا في موضعين.( الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1ص:435)


فتویٰ نمبر : 10534/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں