بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

محرم کا کسی اور کے بال کاٹنا


سوال

محرم آدمی احرام کی حالت میں کسی دوسرے کے بال کاٹ سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں کسی شخص کے بال کاٹ دیتا ہے تو ایسے شخص کے اوپر صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے، صدقہ سے مراد صدقہ فطر یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے برابر صدقہ کرنا واجب ہوگا،البتہ اگربال کاٹنے والا خود بھی افعالِ عمرہ یا حج سے فارغ ہو گیا ہو، صِرف بال کاٹنا حلق کروانا باقی ہو اورایسی حالت میں اُس نے کسی کے بال کاٹ دیے،تو اس پرکچھ لازم نہ ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر محرم کے افعالِ عمرہ یا حج مکمل نہیں ہوئے تھے اور اس نے کسی اور کے بال کاٹ دیے،تواس پر صدقہ کرنا لازم ہو گا اوراگرافعالِ عمرہ یا حج مکمل کر لینے کے بعد حلق کروانے سے پہلےاس نے کسی کے بال کاٹے ہوں،توکچھ لازم نہ ہو گا۔

 

وإن حلق المحرم رأس غيره أو قص أظافيرغيره فعليه صدقة.( الجوهرة النيرة،باب الجنایات فی الحج، جلد1 ص:169 )

حلق (رأس غيره) بأمره أو بغير أمره فعلى الحالق صدقة.( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الحج،باب الجنايات في الحج،ج:1،ص:293)

 (وإذا حلق) أي المحرم (رأسه) أي رأس نفسه (أو رأس غيره) أي ولو كان محرما (عند جواز التحلل) أي الخروج من الإحرام بأداء أفعال النسك ( لم يلزمه شيء).( المسلك المتقسط في المنسك المتوسط المسمى لباب المناسك ،باب مناسک منی، فصل في الحلق و التقصیر، ص:324


فتویٰ نمبر : 10512/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں