بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سپیدار کے درختوں میں عشر


سوال

ایک کھیت میں پانچ سال پہلے سپیدارکے درخت کاشت کئے تھے اور ابھی اس کو کاٹ دیاہےتو اس میں عشرکس حساب سےدیاجائے گا؟اورگزشتہ پانچ سالوں کا عشردیاجائےگایا نہیں ؟

جواب

زمین کی اس پیداوار میں عشر واجب ہوتا ہے جس سے آمدنی حاصل کرنا یا پیداوار سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو، اور اسی نیت سے اس کو لگایا جائے، خواہ وہ درخت ہو ں یا فصل ہو۔ نیزعشر پیداوار میں لازم ہوتا ہے، سال گزرنے کا اس میں اعتبار نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر سپیدار کے درختوں کی کاشت اور نگہداشت اس نیت سے کی گئی تھی کہ بعد میں انہیں کاٹ کر فروخت کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں ان درختوں میں عشر (یا نصف عشر) واجب ہوگا۔اگر درختوں کی سیرابی بارش یا مفت پانی سے ہوئی ہو تو عشر (یعنی دسواں حصہ)دینا لازم ہوگا۔

اور اگر پانی محنت یا قیمت دے کر حاصل کیا گیا ہو (جیسے نہر سے خرید کر یا موٹر وغیرہ کے ذریعے نکال کر) تو نصف عشر (یعنی بیسواں حصہ)واجب ہوگا۔

یہ عشر اس وقت واجب ہوگا جب درختوں کو کاٹ کر آمدنی حاصل کی جائے،لہذاگزشتہ سالوں کا عشر لازم نہیں۔

 

(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل... (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة.(الدرالمختارشرح تنویر الأبصار،كتاب الزكاة،باب العشر، ج:3،ص:266) 

ومنها: أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادةً.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل الشرائط المحلیة،ج:2،ص:58)

فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لاتستنمي بهذه الأشياء، بل تفسدها، حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر، كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار،ج:1،ص:186)


فتویٰ نمبر : 10511/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں