بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرمت رضاعت موافق القیاس ہے یا خلاف القیاس


سوال

کیا حرمت رضاعت کا حکم خلاف القیاس ثابت ہے یا موافق القیاس ثابت ہے؟ اگر خلاف القیاس ثابت ہے تو خلاف القیاس کی وجہ کیا ہے نیز پھر صاحب ہدایہ کا اس مسئلے کے لئے عقلی دلیل پیش کرنے کا کیا مطلب ہے جس سے اس کے خلاف القیاس ثابت ہونے کی نفی ہوتی ہے اور فتاوی عثمانیہ نے خود اس حکم کے لیے علت نص کو قرار دیا ہے جس سے اس کے  موافق القیاس ثابت ہونے کی نفی ہوتی ہے۔

جواب

جاننا چاہیے کہ احکام میں ثابت بالقیاس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ حکم دلیل نقلی کی بجائے صرف دلیل عقلی سے ثابت ہو،جبکہ خلاف القیاس کامطلب یہ ہوتاہے کہ کوئی حکم  دلیل نقلی سے ثابت ہولیکن ظاہر میں عقل اس کے خلاف نظر آئے، اورموافق القیاس وہ حکم ہوتاہے کہ جودلیل نقلی سے ثابت ہولیکن عقل کے بھی موافق ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق حرمت رضاعت کا حکم موافق القیاس ہے یعنی یہ دلیل نقلی سے ثابت ہونے کے ساتھ عقل کے بھی موافق ہے چنانچہ صاحب ہدایہ نے  پہلے حرمت رضاعت کے ثبوت پرنقلی دلائل ذکر کیے ہیں اور اس کے بعد اس کی حرمت پرعقلی دلیل بھی پیش کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت رضاعت دلائل نقلیہ سے ثابت ہے اور قیاس کے بھی موافق ہے۔

 جہاں تک فتاوی عثمانیہ کی بات ہے تو وہاں اگرچہ "حرمت رضاعت کا ثبوت"کےعنوان کے تحت صرف نقلی دلائل جمع کیے گئے ہیں لیکن کتاب الرضاع کی ابتداء میں "تعارف اورحکمت حرمت " کےعنوان کے تحت اس کی عقلی وجہ بھی ان الفاظ میں بیان کی گی ہے۔" دراصل ماں بیٹے کے مابین جومحبت،شفقت اور ایثار پایا جاتا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بیٹا مکمل طورپراپنی ماں کا جزہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیدائش کے وقت سے لے کررضاعت کے وقت تک یہ ماں بیٹا، یک جان دو قالب کا مصداق بنے رہتے ہیں۔ یہی علت،یعنی جزئیت رضاعی ماں اوررضاعی بیٹے کے مابین بھی پائی جاتی ہے،اس لیے کہ بیٹے کی بقا اوراس کے اعضا کا نمواور پختگی رضاعی ماں کے دودھ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، لہذا جوعزت وشرافت اللہ تعالی نے حقیقی ماں کومرحمت فرمائی ہے، وہی عزت رضاعی ماں کو بھی عطا فرمائی اوروہ عزت یہ ہے کہ رضاعی ماں کو بھی حقیقی ماں کی طرح ہمیشہ کے لیے محرم قراردے کراس سے نکاح کرنا حرام قرار دیا، اس لیے کہ نکاح میں عورت مستفرشہ، یعنی صحبت زدہ بنائی جاتی ہے جوکہ رضاعی ماں اوردوسرے قریبی رضاعی لڑکیوں کے لیے کسی طرح بھی مناسب نہیں"

 

ولنا قوله تعالى: ﴿وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم﴾ [النساء: 23] الآية وقوله عليه الصلاة والسلام " يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب " من غير فصل ولأن الحرمة وإن كانت لشبهة البعضية الثابتة بنشوز العظم وإنبات اللحم لكنه أمر مبطن فتعلق الحكم بفعل الإرضاع.(الهدايا في شرح بداية المبتدي،كتاب الرضاع،ج:2،ص:217)


فتویٰ نمبر : 7186/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں