بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ایک میت پر دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھنا


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، جو شہر کا رہائشی تھا، اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں نے اس کا جنازہ اپنے آبائی گاؤں میں رکھوایا، جس کا ٹائم صبح 10:00 بجے کا تھا، اس کے بعد شہر میں اس کے محلے داروں نے اس کی نماز جنازہ اپنے محلے میں رکھوانے کی درخواست کی،  میت کے ورثاء نے علماء سے رابطہ کیا تو علماء نے اس کی اجازت دی، علماء نے فرمایا ایک شخص ایک جنازے میں شریک ہوسکتا ہے، پھر ورثاء نے جنازہ  محلے میں شام 8:30 بجے پڑھا، جس میں ایک وارث نے شرکت کی اور باقی ورثاء نے جنازہ اپنے آبائی گاؤں میں پڑھا تھا، اس تمام معاملے کو دیکھ کر لوگوں نے بہت تشویش کا اظہار  کیا۔کیا اس طرح ایک میت پر دو مرتبہ جنازہ پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر میت کے اولیاء نے نماز جنازہ پڑھ لی یا ان کی اجازت سےنماز جنازہ پڑھائی گئی تو نمازِ جنازہ ادا ہو گئی اور فر ضِ کفایہ ادا ہوگیا۔ دوبارہ جنازہ ادا کرنا درست نہیں؛ اس لیے کہ نماز جنازہ میں اصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ ہی پڑھی جائے، ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنا اصلًا مشروع نہیں، لیکن اگر میت کے کسی ایک ولی نے بھی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی اس کی اجازت سے پڑھی گئی، بلکہ ایسے لوگوں نے پڑھی جن کو اس میت پر ولایت کا حق نہیں تھا تو ولی اس کی نمازِجنازہ دوبارہ کروا سکتا ہے، لیکن اس دوسری جماعت میں صرف وہ لوگ شریک ہوں گے جو پہلے میں شریک نہیں تھے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر پہلی مرتبہ نماز جنازہ میں میت کا ایک بیٹا بھی شریک تھا یا بیٹے کی اجازت سے نماز جنازہ ادا کی گئی تھی تو دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں تھا۔

 

ولو صلّى علیه الولي، وللمیت أولیاء أخر بمنزلته، لیس لهم أن یعیدوا، کذا في الجوهرة النیرۃ. (الفتاویٰ الهندیة، کتاب الصلاة، الباب الحادي و العشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على المیت، ج:1، ص:164)

(فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره.(رد المحتارعلى الدرالمختار، باب صلاة الجنائز، ج:2، ص:222)

قال: وإذا صلي على جنازة ثم حضر قوم لم يصلوا عليها ثانية جماعة ولا وحدانا عندنا إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء ثم حضر الولي فحينئذ له أن يعيدها. (المبسوط للسرخسی، با ب غسل المیت، ج: 1، ص: 106)

قوله: (وله أن يأذن لغيره إلخ) أي وللولي أن يأذن لغيره، وإذا أذن لغيره أن يصلي فصلى لا يجوز للولي الإعادة. (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلوة، باب الجنائز، ج: 1، ص: 573)


فتویٰ نمبر : 10590/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں