بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حکومتی پابندی کی وجہ سے وضو کی بجائے تیمم کرنا


سوال

میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہوں،ہمارےادارے میں ابھی تک پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے جبکہ ہم اپنے ساتھ پینے کے لیے پانی کی کچھ مقداررکھتے ہیں ہمارے ساتھ ایک کلومیڑ سے بھی قریب آبادی ہے لیکن سرکارکی طرف سے ہم کو آبادی کے لوگوں سے پانی لینے کی اجازت نہیں اس کےعلاوہ جب ہم کسی سرکاری دورے پر جاتے ہیں تووہاں ہم اپنے ساتھ پینے کے لیے ضرورت کے بقدر پانی لے جاتے ہیں اور وہاں بھی ہم کو یہ مسئلہ درپیش ہے یعنی آبادی قریب ہے لیکن سرکار کی طرف سے اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی،اب پوچھنا یہ ہے کہ ان صورتوں ہم تیمم کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگروضو سے منع کرنے والا عذرکسی انسان کی طرف سے نہ ہومثلاً بیمارہونا توایسی صورت میں تیمم کرکے نمازادا کی جائےگی اور بعد میں کوئی اعادہ نہ ہوگا،اوراگر منع کرنے والا عذر بندوں کی طرف سے ہو جیسے قید میں ہونا تو ایسی صورت میں تیمم سے نماز ادا کرکے بعد میں جب وہ مانع دور ہوجائے تونماز کااعادہ کیا جائے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب پانی قریب موجود ہو لیکن افسران بالا کی طرف سے اجازت نہ ہونے کی وجہ سے وہ پانی تک نہ پہنچ سکےتوایسی صورت میں  تیمم کرکے نمازادا کی جائے گی اوربعد میں جب یہ مانع ختم ہوجائے توپھران نمازوں کا اعادہ کرنا ہوگا۔

 

اعلم أن المانع من الوضوء إن كان من قبل العباد: كأسير منعه الكفار من الوضوء، ومحبوس في السجن، ومن قيل له إن توضأت قتلتك جاز له التيمم ويعيد الصلاة إذا زال المانع كذا في الدرر والوقاية: أي وأما إذا كان من قبل الله تعالى كالمرض فلا يعيد.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب التیمم،ج:1،ص:235)

ومن لم يجد ماء وهو مسافر أو خارج المصر بينه وبين المصر نحو ميل أو أكثر يتيمم بالصعيد۔۔۔والمعتبر المسافة دون خوف الفوت لأن التفريط يأتي من قبله.(الهداية في شرح بداية المبتدي،باب التيمم،ج:1،ص:27)


فتویٰ نمبر : 10530/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں