بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کتروانے اور ننگے سر نماز پڑھانے والے کی امامت


سوال

میں دبئی میں ہوں۔ ہمارے قریب مسجد کے جو امام صاحب ہیں، وہ نماز پڑھاتے وقت ٹوپی نہیں پہنتے اور داڑھی بھی کترواتا ہے۔ جو کہ مٹھی سے بھی کم ہوتی ہے۔ کیا ایسے امام کے پیچھے ہماری نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بلا عذر صرف سستی اور کاہلی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ البتہ عذر کی صورت میں ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اسی طرح داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور داڑھی منڈوانا بہ اجماع امت حرام ہے۔ اور ایک مٹھی سے کم رکھنا بھی ناجائز ہے، لہٰذا ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو کر فساق کے زمرے میں شمار ہوگا جس کو مستقل امام بنانا صحیح نہیں، ہاں اگر کبھی کبھار ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھی جائےتو نماز ہوجاتی ہے اور انفرادا نماز پڑھنے سے ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا بہتر ہے، البتہ جہاں نیک اور متشرع امام میسر ہو تو پھر ایسے شخص کے پیچھے مستقلا نماز پڑھنے سے گریز کیا جائے۔

لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو کسی ایسی مسجد میں نماز ادا کرے جہاں  امام نیک اور  باشرع ہو، اور داڑھی، ٹوپی کی پابندی  بھی کرتا ہو، لیکن اگر قریب کوئی دوسری ایسی مسجد نہ ہو، تو پھر اسی امام کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

 

لو صلى خلف فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لقوله صلى الله عليه وسلم «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» (البحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:370)

(وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل (وفي الحاشية)وأن من لوازمه: ظهور الذل، وغض الطرف، وخفض الصوت، وسكون الأطراف، وحينئذ فلا يبعد القول بحسن كشفه إذا كان ناشئا عن تحقيق الخشوع بالقلب. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب: في الخشوع، ج:1، ص:641)


فتویٰ نمبر : 10588/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں