بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں طلاق واقع ہونا


سوال

ایک شخص نے غصے کی حالت میں اپنی حاملہ بیوی کو چاربار ان الفاظ سے طلاق دی" میں نے تجھے طلاق دی "یہ بات کچھ عرصہ پہلے ہوئی تھی اور اب بچہ پیدا ہو گیا ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حمل کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟ اگر طلاق واقع ہو گئی تو بچہ کے پیدا ہونے پر عدت ختم ہو گئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حالت ِحمل میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہےاور حاملہ عورت کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے، جب بچہ کی پیدائش ہوجائے تو عدت ختم ہوجائے گی۔

لہذا صور تِ مسئولہ کے مطابق جس شخص نے اپنی حاملہ بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ چار مرتبہ طلا ق دی ہو کہ "میں نے تجھے طلاق دی "تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، چوتھی طلاق لغو ہے اور بیوی شوہر پر حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔ اس کی  عدت بچے کی پیدائش تک تھی، بچے  کی پیدائش پر عدت مکمل ہو کر ختم ہوچکی ہے۔

 

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطلاق وفيه خمسة عشر بابا، فصل فیما تحلّ به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473)

وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان. وسواء كانت المرأة حرة أو مملوكة قنة أو مدبرة أو مكاتبة أو أم ولد أو مستسعاة مسلمة أو كتابية كذا في البدائع. (الفتاوی الہندیۃ، كتاب الطلاق وفيه خمسة عشر بابا، الباب الثالث في العدة،ج:1، ص:528)


فتویٰ نمبر : 6325/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں