بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
قربانی میں چاندی کی بجائے سونے کے نصاب کو معیار بنانا
سوال
سونے اورچاندی کے موجودہ نصاب کے درمیان قیمت کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہے اورچاندی کو معیار نصاب بنانے سے اکثر لوگوں کوقربانی میں شدید حرج کا سامنا ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ قربانی میں سونے کو نصاب کے لئے معیار کیوں نہیں بنایا جاتا ؟
جواب
جاننا چاہیے کہ اضحیہ اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس مقدار نصاب میں سونا یا مقدار نصاب میں چاندی موجود ہو،اوریا نقدی، سامانِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان اتنا موجود ہو کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی میں سے کسی ایک نصاب تک پہنچ جائے ،چونکہ نقدی اورمال تجارت کا سونے اور چاندی میں سے ہرایک کے ساتھ مشابہت ہے اسلئے ان میں سے جس کے نصاب تک بھی پہنچ جائے تواس کا مالک صاحب نصاب شمار ہوگا۔آج کل چاندی کی قیمت کم ہونے کی بناء پر نقدی وغیرہ چاندی کے نصاب تک پہلے پہنچ جاتے ہیں اس لیے چاندی کے نصاب کے لحاظ سے ان کاحساب لگایاجاتاہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق سے چاندی کی بجائے سونے کے نصاب کومعیار بنانا درست نہیں،کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بندہ چاندی کے حساب سے صاحب نصاب ہونے کے باوجود اس کو صاحب نصاب قرارنہ دیا جائے اور ظاہر ہے کہ اسے درست نہیں کہا جاسکتا۔
جہاں تک حرج اور تنگی کی بات ہے تو سونا اور چاندی دونوں کی موجودگی میں اگر ایک کا نصاب پورا ہو تو کوئی مشکل پیدا ہونے کا خطرہ نہیں۔ لیکن جہاں کہیں سونا اور چاندی دونوں نصاب سے کم ہوں، لیکن دونوں کی قیمت لگا کر چاندی کا نصاب پورا ہو سکتا ہو۔ تو ایسی صورت میں مشکل پیدا ہونے کاامکان ہے کہ مثلاً ایک شخص کے پاس ایک تولہ سونا کے ساتھ دس روپے موجود ہوں تو دونوں کو ضم کر کے چاندی کا نصاب پورا ہو سکتا ہے لہٰذا پھر ہراس عورت پر قربانی واجب ہوتی ہے جس کے پاس صرف ایک تولہ سونا اوردس روپے پاکستانی ہوں، کیونکہ دونوں کو ملا کر اس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اس کی اتنی قوت خرید نہیں ہوتی کہ وہ قربانی کا جانورخرید سکے فقہ حنفی کی رو سے یہ مشکلات اس وقت پیش آتی ہیں جب امام ابوحنیفہ کے ظاہرالروایہ قول کا اعتبارکرکے نقدین کے ناقص نصاب ہونے کی صورت میں ضم میں قیمت کا اعتبارہو لیکن اس مسئلہ میں اگر صاحبین کی رائے کے مطابق ناقص نصاب کی صورت میں ضم بالقیمت کی بجائے اجزاء کےاعتبار سے ملایاجائےتو پھر اس سے مشکلات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے نیزیہ امام ابو حنیفہ کا بھی قول ہے۔
متون نے امام ابو حنیفہ کا قول ذکر کر کے مفتی بہ قرار دیا ہے لیکن حالات کے تغیر کی وجہ سے صاحبین کے قول پر فتوی دینے کی گنجائش پائی جاتی ہے جیسے مزارعت میں معاشرتی ضرورت کو مد نظررکھتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے قول کے مقابلے میں صاحبین کے مذہب پر فتوی دیا گیا ہے۔ جبکہ یہاں پر اجزاء کے اعتبار سے ضم کے بارے میں امام ابوحنیفہ کا قول بھی موجود ہے۔ لہذا صاحبین کے قول میں وسعت سے استفادہ کرتے ہوئے اس پرفتوی دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهورواية عن أبي حنيفة أيضا ذكره في نوادر هشام. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:2،ص:19)
منها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح»۔۔۔ وهوأن يكون في ملكه مائتا درهم أوعشرون ديناراأوشيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:5،ص:64)
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:191)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں