بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عدد طلاق میں شک پڑنا


سوال

گھروالے ایک لڑکی کے بارے میں اصرار کررہے تھے کہ یہ لڑکی آپ کیلئے کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ الفاظ کہے" اگر میں نے اس کےساتھ نکاح کیا تواس کوطلاق ہو" اب مجھےیہ یاد نہیں کہ ایک طلاق کہا ہے یا تین،جب بھی غورکروں توکچھ بھی مجھے معلوم نہیں ہورہا؟

جواب

واضح رہےکہ جب طلاق کی اضافت نکاح کی طرف ہوجائے تونکاح کرنے کے بعد طلاق واقع ہوگی،اوراگرطلاق کی عدد میں شک ہو اورغور سے سوچنےکے بعد بھی کسی ایک جانب کوترجیح نہ مل رہی ہوتواس صورت میں اقل عدد کا اعتبارہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگرواقعی سائل کوطلاق کی عدد میں شک ہواور کوئی ایک جانب کو ترجیح نہ ملے، تو جب نکاح ہوجائے تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوی الهندية،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط،ج:1، ص:420)

ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل ۔۔۔(قوله بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثرأو يكون أكبر ظنه۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:11، ص:126)


فتویٰ نمبر : 7188/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں