بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
دادی کا پوتے کو پستان دینے سے حرمت رضاعت کا حکم
سوال
ایک لڑکے کو اس کی دادی نے ڈیڑھ سال کی عمر میں کئی مرتبہ پستان دیا تھا،دادی کے کہنے کے مطابق اس وقت پستان سے کچھ مادہ خارج ہوتا تھا، جب کہ اس کی اپنی سب سے چھوٹی بیٹی اس وقت دس سال کی تھی ، اب کیا اس لڑکے کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بیٹی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے خواہ کم ہو یا زیادہ تو اس عورت سے رضاعت کارشتہ ثابت ہوجاتا ہے، چنانچہ اس بچے پر دودھ پلانے والی کے اُصول اور فروع سب حرام ہوجاتے ہیں،تاہم محض پستان کو منہ میں دینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، جب تک دودھ بچے کےپیٹ تک پہنچنےکا غالب گمان نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر دادی نے اپنےپوتےکے منہ میں کئی مرتبہ پستان دیا تھا،اور اس کے کہنے کے مطابق اس وقت پستان سے کچھ مادہ (دودھ)بھی خارج ہوتا تھا،تو اس صورت میں رضاعت کا رشتہ ثابت ہوجاتا ہے ، اوراس لڑکے پر دودھ پلانے والی (دادی)کے اصول اور فروع سب حرام ہوجاتے ہیں،جس کی وجہ سے اس لڑکےکا نکاح اپنی پھوپھی زادبیٹی سے جائز نہیں کیونکہ وہ اس کی رضاعی بھانجی ہے۔
والأصل فيه قول النبي عليه الصلاة والسلام «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب».( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الأشربة، كتاب الإستحسان، ج:5، ص:121 )
(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص:202 )
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا.( الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:343 )
دخل في فم الصبي من الثدي مائع لونه أصفر تثبت حرمة الرضاع لأنه لبن تغير لونه كذا في خزانة المفتين. (الفتاوىٰ الهندية،كتاب الرضاع،ج:1،ص:344 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں