بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

معین وقت تک بیوی کو گھر نہ پہنچانے پر طلاق کی تعلیق


سوال

ایک شخص نے اپنی ساس کو بیوی کی ناراضگی کی صورت میں کہا کہ اگر میری بیوی کو ایک گھنٹہ کے اندر میرے گھر نہ پہنچایا ،تو اس کو طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے اور بیوی کوجب اس بات کا پتہ چلا تو وہ گھر آنے لگی لیکن اس کی بہنوں نے ہاتھ پاؤں پکڑ کر زبردستی اسے روکنے کی کوشش کی ،جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئی،جب ہوش آیا توگھنٹہ گزر جانے کی وجہ سے طلاق کے واقع ہونے کے گمان سے دوبارہ گھر جانے کی کوشش نہیں کی،تو سوال نی ہے کہ اس مسئلے میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کردے ،تو جب بھی شرط پائی جائےگی، طلاق واقع ہوجائےگی، لہذا صورت  مسئولہ میں اگرشوہر نے اپنی ساس سے یہ کہا تھاکہ " اگرمیری بیوی کو ایک گھنٹہ کےاندر میرے گھر نہ پہنچایا ،تواس کو طلاق ہے،طلاق ہے ،طلاق ہے"اوراس کے بعد بیوی کو ایک گھنٹہ کے اندر اس کے گھر نہ پہنچایا گیا تواس کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط اتفاقاً. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:42)


فتویٰ نمبر : 7181/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں