بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کی گائےمیں شریک ہونےوالےمالک کا خود قیمت مقررکرنا


سوال

ایک آدمی کے پاس ایک گائے ہے جووہ قربانی کے لیے فروخت کرنا چاہتا ہے، اور وہ خود بھی اس گائے میں شریک ہونا چاہتا ہے،توکیا وہ شخص خود ہی گائے کی قیمت مقررکرسکتا ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص جس طرح اپنی مملو کہ چیز مکمل طور پربیچ سکتا ہےاسی طرح وہ ا پنی مملوکہ چیز کے کسی ایک یا زائد حصے بھی   بیچ سکتا ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر گائے کے مالک نے فروخت کرنے سے پہلے  گائے میں سے کوئی ایک حصہ اپنےلیےمختص کرکے بقیہ حصوں کی قیمت مقررکرکے فروخت کیے ہوں اور خریداروں نےاس قیمت پررضا مند ہوکرخریدا ہو،تواس صورت میں مذکورہ سودا شرعًا جائز ہوگا۔

 

لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام،ج:1،ص:473 المادة 1192 )

‌يجب ‌أن ‌يعلم ‌أن ‌الشاة ‌لا ‌تجزئ ‌إلا ‌عن ‌واحد، وإن كانت عظيمة، والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا،ج:5، ص: 304)


فتویٰ نمبر : 10505/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں