بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقتدیوں کی وجہ سے ظہر کی سنتوں کوبعد میں پڑھنا


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا  امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظہر کی پہلی چارسنتیں فرض سے پہلے پڑھے،جب کہ تمام مقتدی نماز کے منتظرہوں؟

جواب

 واضح رہے کہ ظہرکی فرض نماز سے پہلے کی چاررکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں، جن کی ادائیگی کا اہتمام کرنا امام اورمقتدی دونوں پرلازم ہے۔

صورت مسؤلہ میں امام کو چاہیے کہ وہ جماعت کے طے شدہ وقت سے پہلے ہی سنت ادا کرنے کا اہتمام کرے،تاہم اگر جماعت کا وقت ہو چکا ہواور مقتدی انتظار کر رہے ہوں، تو امام کے لیے ان سنتوں کو مؤخر کرنا جائز ہے۔ اس صورت میں، امام فرض نماز کی امامت کروا سکتا ہے اوربعد میں ان سنتوں کی قضا کرےاگر امام سنتیں پڑھے بغیرفرض نمازپڑھالے تونمازکسی قسم کی کراہت کے بغیرادا ہوجائے گی۔

 

عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا لم يصل أربعاً قبل الظهر صلاهن بعدها.(سنن الترمذي،باب ماجاء في الركعتين بعد الظهر،ج:2،ص:291،رقم الحديث:426)


فتویٰ نمبر : 10504/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں