بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ٹھیکیدارکا طے شدہ مقدارسے کم میں کام کرنا


سوال

اگرکوئی سرکاری ٹھیکیدارکسی ایسے معاہدے پرکام کررہا ہوجس میں معیاری مقدار(مثلاً: پانچ انچ بھرائی) طے شدہ ہو،لیکن مواد کی قیمتوں میں اضافہ اوروقت کی تاخیرکی وجہ سے اس معیارپرعمل کرنا مالی نقصان کا باعث بن رہاہو،توکیا شریعت ایسے معاہدے میں مقررہ مقدارسے کم(مثلاً تین یاساڑھے تین انچ) کام کرنے کی اجازت دیتی ہے؟

جواب

سرکاری ٹھیکیدارکا مقررہ معیارسے کم کام کرنا،جیسے پانچ انچ کی بجائے تین یا ساڑھے تین انچ بھرائی کرنا شرعا جائز نہیں،اس لیے کہ یہ عمل تطفیف یعنی دوسرے کے حق میں کمی کرنے کے زمرے میں آتا ہے، جوکہ شرعا جائزنہیں۔ البتہ اگرقیمتوں میں اضافہ یا دیگرمسائل کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے،تواس کاحل معاہدے میں ترمیم یا متعلقہ حکام سے رجوع کرنا ہے نہ کہ معیارمیں کمی کرنا۔

 

قال الله تعالى:﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ  الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ  وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ﴾۔ (سورةالمطففين:1,2,3)


فتویٰ نمبر : 6288/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں