بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

الگ کمائی سے خریدی گئی جائیداد میں میراث


سوال

اگر خاندانی میراث ابھی تقسیم نہ ہوئی ہواور ایک بھائی ذاتی محنت سے کچھ مال یا جائیداد حاصل کرے تو کیا وہ جائیداد سب بہن بھائیوں میں مشترک سمجھی جائے گی یا وہ صرف اسی بھائی کی ملکیت ہوگی؟

جواب

اگرکسی وارث نے اپنی ذاتی محنت، ملازمت یا کاروبار سے کوئی جائیداد حاصل کی ہو، اوراس میں وراثتی مال یا دیگرورثاء کی شراکت نہ ہو،تووہ جائیداداس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی،تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مذکورہ جائیداد کی خریداری میں مشترکہ مال بھی شامل تھا،توایسی صورت میں دیگرورثاء کا بھی اس میں حق ثابت ہو گا۔

 

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."( البحر الرائق، كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:5، ص:44)
کل یتصرف فی ملکہ کیف ما شاء ، لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال .)مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الفصل الأول في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك،ص:,230المادة (1192)
(و ما حصله أحدهما فله و ما حصلاه معا فلهما)(قوله: و ما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر(الیٰ قولہ) مطلب: اجتمعا في دار واحدة و اكتسبا و لا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج و تكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها .(ردالمحتارعلى الدرالمختار،فصل في الشركة الفاسدة،ج:4ص:325)


فتویٰ نمبر : 6287/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں