بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حرام مال سے کوئی چیزخرید کراس سےکمائی کرنا


سوال

میرے بھائی نے حرام کمائی سے ایک شاول خریدا ہے، جس پرمیں کام کرکے گھر کے اخراجات برداشت کرتا ہوں۔ اسی شاول کی کمائی سے میں مہمانوں کو بھی کھانا کھلاتا ہوں، جب کہ ان مہمانوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ یہ آمدنی اس شاول سے حاصل کی گئی ہے جو حرام کمائی سے خریدا گیا تھا۔میرا سوال یہ ہے کہ:کیا میں اس حرام مال سے خریدے گئے شاول سے کمائی کرکے اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکتا ہوں؟کیا مہمان کےلیے ہمارے گھر میں کھانا کھانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حرام سے خریدی ہوئی چیز کا استعمال جائز نہیں ہے ،لیکن حرام سےخریدی ہوئی چیز سے حاصل ہو نے والی کمائی اگر جائز طریقے سے ہو،تووہ حلال ہو گی، البتہ اگرحرام سے خریدی ہوئی چیز سے کمائی بھی حرام طریقے سے ہو تو وہ  کمائی حرام ہوگی ،چنانچہ نہ خود اس کو کھاسکتاہےاورنہ کسی اور کو کھلاسکتاہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق حرام آمدنی سے خریدے گئے شاول سےحاصل ہونےوالی آمدنی  حرام نہیں،اس لیےاس کا استعمال خود یا اہل وعیال اور مہمانوں کے لیے جائز ہے، البتہ جتنی حرام رقم سے اسے خریدا ہےاتنی رقم مالکوں کولوٹانایامالک معلوم نہ ہو نےکی صورت میں بلا نیت ثواب  صدقہ کرنا ضروری ہے ۔

 

غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري. (الفتاوى الهندية، كتاب الغصب، الباب التاسع في الأمر  بالإتلاف و ما يتصل به ، ج : 5ص: 142 )

والمحظور لغيره ‌لا ‌يمتنع ‌أن ‌يكون ‌سببا لحكم شرعي ألا ترى أن الصلاة في الأرض المغصوبة تجوز وتكون سببا لحصول الثواب الجزيل.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقا ئق،كتاب الغصب،ج:5،ص:227)


فتویٰ نمبر : 10504/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں