بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کسی کمپنی کا بطور منافع سرمایہ کی فیصد مقرر کرنا


سوال

ایک کمپنی ہے جو مختلف کاروبار کرتی ہے ۔ وہ  لوگوں سے سرمایہ  بھی حاصل کرتی ہے ، اور ان کے ساتھ یہ طے کرتی ہے کہ سرمایہ کی  4 سے 5 فیصدتک ماہانہ  منافع  سرمایہ  دینے والے کو دیاجائے گا ، تو کیا ازروئے شرع یہ معاملہ جائزہے؟ اگر جائز  نہیں تو  جائز حل کیا ہو سکتا ہے؟

جواب

جب ایک شخص سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا  اس سے تجارت و کاروبار کرےاور نفع دونوں کے درمیان مشترک ہو ، تو فقہاء  کی اصطلاح میں ایسے  معاہدے کو "مضاربت" کہتےہے۔ مضاربت کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ ہے کہ نفع میں دونوں (سرمایہ دار اور محنت کرنے والے) کا حصہ نفع کی فیصد یا تناسب  طے کیا جائے۔اگر نفع میں سے کسی ایک فریق کے لیے متعین رقم  طے کی جائے، یا نفع کو  سرمایہ کے تناسب سےطے  کیا جائے، تو ایسا معاہدہ شریعت کی رو سے  ناجائز اور حرام ہوگا، اور اس سے  عقد مضاربت  فاسد  ہو جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق   میں جو کمپنی اپنے سرمایہ کاروں  سے یہ کہہ کر سرمایہ حاصل کرتی ہے کہ آپ کو  ماہانہ سرمایہ کا  4 سے 5 فیصد تک نفع دیا جائے گا، تو یہ معاملہ شریعت کی رو  سے جائز نہیں  یہ سود کے حکم میں داخل ہے  ، اس کا جائز   طریقہ یہ  ہے کہ کمپنی  سرمایہ کاروں کے ساتھ یہ طے کردےکہ:سرمایہ پر جو منافع حاصل ہوں گے ، ان منافع کا ایک خاص فیصد نفع سرمایہ کار  کو دیا جائے گا اور باقی کمپنی کا ہوگا یعنی سرمایہ کار کو ملنے والا منافع سرمایہ کے تناسب سے طے  نہ ہو بلکہ حاصل شدہ منافع کے تناسب  سے  طے ہو۔

 

أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر... وأما شرائطها... (ومنها) أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. فإن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة كذا في محيط السرخسي... ومنها أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح لا من رأس المال حتى لو شرط شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت المضاربة.(الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4،ص: 295)

(وكون الربح ‌بينهما ‌شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهم معلوما) عند العقد. ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح، حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت.(الدرالمختار شرح تنويرالأبصار،كتاب المضاربة، ج:5،ص:648)


فتویٰ نمبر : 3803/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں