بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عیسائیوں کےساتھ معاملات کرنااور ان کے گھر کا کھاناکھانا


سوال

ہماری اور عیسائیوں کی دوکانیں قریب قریب ہیں،کبھی کبھار ہم ایک دوسرےسے کوئی چیز لیتےہیں ، توکیا ان کے ساتھ یہ معاملات کرنا جائز ہے یا نہیں؟نیز کبھی کبھار یہ عیسائی لوگ اپنے گھر سے ہمارے لیے کھانا لاتے ہیں،توکیاہمارے لیےیہ کھانا کھانا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

انسان خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو،اس کی انسانی شرافت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔چنانچہ کافر کے ہاتھ کا کھانااور اس کے برتن استعمال کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے،البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ کھانا حرام نہ ہویا حلال کےساتھ حرام چیز ملی ہوئی نہ ہو،اسی طرح برتن نجس نہ اور استعمال سے پہلے خوب پاک کیا گیا ہو،ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئےکافرکے ہاتھ کاکھانااور برتن استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن عادت بنانا کراہت سے خالی نہیں ہے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں کسی عیسائی کے ساتھ معاملات کرنا  شرعاً جائز ہےاسی طرح عیسائی یاکسی بھی غیر مسلم  کے گھر کے پکے ہوئے کھانے کے بارے میں اگر حلال اورپاک ہونے کا یقین ہوتواس کا کھاناجائزہے،مگر اس کی عادت اور معمول بنانا  مکروہ ہےجس سے احتراز کرناچاہئے۔

 

لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية(الفتاوى الهندية،كتاب الكرهية،الباب الخامس عشرفى الكسب،ج:5،ص:348)

ولا بأس بطعام المجوس، وأهل الشرك ما خلا الذبائح، فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان لا يأكل ذبائح المشركين، وكان يأكل ما سوى ذلك من طعامهم، فإنه كان يجيب دعوة بعضهم تأليفا لهم على الإسلام، فأما ذبائح أهل الكتاب، فلا بأس بها لقوله تعالى {، وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم} [المائدة: 5]، ولا بأس بالأكل في أواني المجوس، ولكن غسلها أحب إلي، وأنظف؛ لما روي «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - سئل عن طبخ المرقة في أواني المشركين، فقال - عليه الصلاة والسلام - اغسلوها، ثم اطبخوا فيها»( المبسوط للسرخسي كتاب الأشربة،ج:24،ص:27)

 

وذبيحة أهل الكتاب إنما تؤكل إذا أتى بها مذبوحة وإن ذبح بين يديك فإن سمى الله تعالى لا بأس بأكلها وكذا إذا لم يسمع منه شيء،(البحرالرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري،باب مايقوله عند الذبح،ج:8،ص:193)


فتویٰ نمبر : 6291/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں