بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کسی کام کے نہ کرنے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

ایک شخص کااپنےبیٹے پر کچھ  قرض تھاپھراسی  بیٹے میں کسی بات پر جھگڑاہوا،تو اس نے بیٹے سے کہا ۔’’که مازیگراپورےدے زما پیسے را نه کے نو مور به دے په ما په درےطلاقو طلاقه يي‘‘بیٹے نے عصر تک پیسے نہیں د ئے۔توکیا طلاقیں واقع ہوکراس کی بیوی مطلقہ ہوئی ہےیا نہیں؟

جواب

طلاق کو جب کسی شرط کےساتھ معلق کردیا جائے تو شرط موجود ہونےپر طلاق واقع ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعتاً شوہر نے طلاق کو ’’بیٹے کےعصر تک پیسے واپس نہ کرنے ‘‘پر مشروط کیا تھا، اور بیٹے نے عصرتک پیسے نہیں دیئے،توشرط پوری ہو گئی ہے، لہذابیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذاوغيرهما،ج:1،ص:420)

لأنها لو كانت مؤقتة، ولم يفعل فيه يحنث بمضي الوقت(البحر الرائق،كتاب الايمان،باب اليمين في الضرب والقتل ولأوغير ذالك،ج:4،ص:400)


فتویٰ نمبر : 7178/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں