بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جب بھی پیسے ہوجائیں تو دے دینا


سوال

ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا: "یہ گھڑی تم لے لو، جب پیسے ہو جائیں دے دینا۔"کیا یہ بیع مؤجل (بیع معلقہ) ہے یا قرض؟ شرعاً اس طرح بیع کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ بیع جس طرح نقد رقم کےساتھ منعقد ہوسکتی ہے اسی طرح ادھاررقم کےساتھ بھی بیع منعقد ہوسکتی ہےالبتہ ادھارکی صورت میں رقم کی حوالگی کادن معلوم ہونا ضروری ہے۔

صورت مسؤلہ کی روسے جب بائع نےیہ کہہ دیا کہ" جب بھی پیسے ہوجائیں تودےدینا" تویہ ادھاربیع ہےاوراس میں ادائیگی کی مدت مقررنہیں کی گئی ہےاس لیے یہ بیع شرعاً جائزنہیں ۔

 

(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب في الفرق بین الأثمان والمبیعات،ج:4،ص:531)

(قوله: لا يجوز البيع إلى هذه الآجال) أي لجهالة الأجل...واعلم أن كون التأجيل في الثمن يصح ‌إذا ‌كان ‌الأجل ‌معلوما.(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،باب البیع الفاسد،ج:4،ص:59)


فتویٰ نمبر : 3807/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں