بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

"Fiverr"یا "upwork" کے ذریعے ڈیزائن وغیرہ بنوانا


سوال

ایک شخص"fiverr"یا"  upwork"  جیسی ویب سائٹس پر لوگو ڈیزائن یا ترجمہ کی سروس دیتا ہے،مگر وہ کام خود نہیں کرتا ہے بلکہ کسی اور سے کرواتا ہے، ایسے عقد کی شرعا کیا حیثیت ہے؟

جواب

"Fiverr"اور"  upwork" کے ذریعے گرافکس اورڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ،ویڈیوایڈیٹنگ، پروگرامنگ، تحریر وترجمہ وغیرہ جیسے سروسز فراہم کیے جاتے ہیں، اس طرح کی ویب سائٹس پر فری لانسنگ درحقیقت عقد اجارہ  کی ایک صورت ہے،جس میں فری لانسر کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے جبکہ کسٹمر کی حیثیت مستاجر کی ہوتی ہے۔نیز  اس طرح کے ویب سائٹس کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر مذکورہ ویب سائٹس کے ذریعے کوئی ایسا کام کیا جائے جس میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی  ہو جیسے جاندار کی تصویر سازی، موسیقی، حرام چیزوں کی تشہیریا دوسرے وہ کام جو شریعت میں ناجائز ہیں،تو وہ  کام کرنا ناجائز ہے، اور اگر ایسا کام کیا جائے جس میں شریعت کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہو ، اور نہ ہی جھوٹ اور دھوکہ دہی ہو، تو اس کام میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

لہٰذا کسٹمر سے کام لے کر کسی دوسرے شخص سے بھی کروانا  جائز ہے، بشرطیکہ کسٹمر نے بذاتِ خود کام کرنے کی شرط نہ لگائی ہو، البتہ اگر کوئی کسٹمر  ایگریمنٹ میں یہ شرط لگائے کہ ا س پروجیکٹ پر بذاتِ خود کام کرنا ہے ، تو پھر فری لانسر  کسی دوسرے شخص سے کام نہیں کروا سکتا۔

 

(الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غيرموقت)...(أو موقتا بلا تخصيص)...(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه). (الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:64)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد. (الهداية، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:3، ص:306)

‌وإذا ‌استأجر ‌رجل ‌رجلا ليكتب له مصحفا أو فقها معلوما بأجر مسمى فهو جائز، وليس هذا كتعليم القرآن. ولو استأجر رجل رجلا ليكتب له نوحا أو شعرا أو غناء معلوما بأجر مسمى لزمه ذلك، وكان جائزا، ولا يشبه هذا التعليم. (الأصل لمحمد بن الحسن، كتاب الإجارات، باب الإجارة الفاسدة وما لا يجوز منها، ج:4، ص:23)

قال رحمه الله (ولا يستعمل غيره إن شرط عمله بنفسه) يعني ‌ليس ‌للأجير ‌أن ‌يستعمل ‌غيره إذا شرط عليه أن يعمل بنفسه. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الإجارة، ج:8، ص:14)


فتویٰ نمبر : 6284/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں