بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

“buy one, get one free” آفر لگا کر ڈبل قیمت مقرر کرنا


سوال

ایک اسٹور نے “buy one, get one free” آفر دی مگر قیمت دگنی رکھی گئی تھی،کیا ایسے تجارتی حربے شرعا دھوکہ شمار ہوں گے یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ اگر دکان دار بغیر کسی شرط کے محض تشہیر  وترغیب کے لیےصارف کو کوئی چیز مفت دے دےتو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ بیع  باہمی رضامندی کے ساتھ مال کے عوض مال کے تبادلے کا نام ہے،لہٰذا بائع اور مشتری مبیع کی جس مقدار کے عوض جو قیمت طے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں ۔

صورتِ مسؤلہ میں دکان دار اگر" Buy one, get one free"آفر لگا کر دگنی قیمت مقرر کرے،اور مشتری اپنی رضامندی سے خریدے،تو شرعاًاس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

 

‌هو ‌مبادلة ‌المال ‌بالمال ‌بالتراضي. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب البيع، ج:5، ص:277)

قال رحمه الله (والزيادة فيه والحط منه والزيادة في المبيع ويتعلق الاستحقاق بكله) أي ‌يجوز ‌للمشتري ‌أن ‌يزيد في الثمن ويجوز للبائع أن يحط من الثمن وأن يزيد في المبيع ويلتحق بأصل العقد ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك حتى لا يكون للمشتري أن يطالب بالمبيع حتى يدفع الزيادة وللبائع أن يحبسه حتى يستوفي الزيادة ويملك المشتري المطالبة بتسليم المبيع كله بتسليم ما بقي من الحط. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب البيوع، باب التولية، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4، ص:83)


فتویٰ نمبر : 6284/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں