بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

دودھ میں پانی ملاکر بیچنا


سوال

ایک دودھ والے نے ہوٹل والے کے ساتھ دودھ کا ٹھیکہ لگایا کہ میں آپ کودودھ لاؤں گا، لیکن مشتری نے کہا کہ بازارکاریٹ 260 روپے ہے اورمیں آپ سے 220 روپے پرخریدوں گا، اب دودھ والے کودودھ میں پانی ملانا جائزہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دودھ میں پانی ملاکربیچنادھوکہ ہےاورکسی کودھوکہ دینا جائزنہیں،البتہ اگردودھ بیچنے والادھوکانہ دے بلکہ لوگوں کوبتادےکہ اس میں پانی ملاہواہےاورقیمت یہ ہے(یعنی خالص دودھ کی قیمت سےکم ہے)توبیچنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ میں اگرعقد خالص دودھ پرکیاگیاہواورمشتری کویہ بات معلوم نہ ہوکہ دودھ میں پانی ملایاجاتاہےتواس صورت میں عقدکے بعددودھ میں پانی ملاناجائزنہیں ۔

 

عن أبي هريرة؛أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"من حمل علينا السلاح فليس منا.ومن غشنا فليس منا".)صحيح مسلم،كتاب الإيمان،باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم"‌من ‌غشنا‌ فليس ‌منا"،ج:1،ص:99)

عن أبي هریرة،قال:نهی رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم عن بیع الحصاة،وعن بیع الغرر. (صحیح مسلم،کتاب البیوع،باب بطلان الحصاة،ج:2،ص:2)

لايحل كتمان العيب في مبيع أوثمن؛لأن الغش حرام. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب خيارالعيب،مطلب في جملةمايسقط به الخيار،ج:5،ص:47)

رجل أرادأن یبیع السلعة المعیبة وهویعلم یجب أن یبینهافلولم یبین قال بعض مشایخنایصیرفاسقامردودالشهادة۔ (الفتاوٰی الهندية، کتاب البیوع،الباب ‌العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة،ج:3،ص:210)


فتویٰ نمبر : 3802/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں